سوشل میڈیا پر ریسٹورنٹ کی تضحیک مہنگی پڑ گئی

ابوظہبی میں خاتون انفلواینسر پر 81 ہزار درہم تقریباً 60 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد جرمانہ، موبائل فون ضبط، ویڈیو ڈیلیٹ کرنے کا حکم

Sajid Ali ساجد علی منگل 14 جولائی 2026 15:46

سوشل میڈیا پر ریسٹورنٹ کی تضحیک مہنگی پڑ گئی
ابوظہبی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جولائی 2026ء) متحدہ عرب امارات میں سوشل میڈیا پر سستی شہرت اور ویوز حاصل کرنے کی کوشش میں ایک خاتون سوشل میڈیا انفلواینسر کو ریسٹورنٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچانا انتہائی مہنگا پڑ گیا، ابوظہبی کی عدالت نے ہتکِ عزت اور توہین آمیز مواد شیئر کرنے پر سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے انفلواینسر پر مجموعی طور پر 81 ہزار درہم کا بھاری جرمانہ عائد کر دیا، موبائل فون بھی ضبط کرکے جرم کی پاداش میں متنازعہ ویڈیو کو سوشل میڈیا سے ہمیشہ کے لیے ڈیلیٹ کروا دیا گیا۔

گلف نیوز کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک معروف خاتون سوشل میڈیا انفلواینسر نے اپنے اسمارٹ فون کے ذریعے ابوظہبی کے ایک نامور ریسٹورنٹ میں جا کر ویڈیو بنائی، ویڈیو کا مقصد کھانے کے معیار یا سروس کا تعمیری جائزہ لینا نہیں تھا بلکہ انہوں نے ریستوران کے مالک اور اس کی انتظامیہ کے خلاف توہین آمیز اور تضحیک آمیز زبان استعمال کرتے ہوئے ان کی ذاتی و کاروباری ساکھ پر براہِ راست کیچڑ اچھالا۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ اپنی سالہا سال کی محنت سے بنائی گئی کاروباری ساکھ پر اس ڈیجیٹل حملے کے بعد ریستوران کے مالک نے خاموش رہنے کے بجائے فوری طور پر قانون کا دروازہ کھٹکھٹایا اور متعلقہ حکام کو باقاعدہ شکایت درج کرائی، انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ ویڈیو تعمیری تنقید کی حدود سے تجاوز کر چکی ہے اور اس سے ان کے کاروبار کو شدید اخلاقی اور مالی نقصان پہنچا۔

معلوم ہوا ہے کہ شکایت موصول ہونے پر سکیورٹی اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمہ کو طلب کیا، پبلک پراسیکیوشن اور ابتدائی انکوائری کے دوران ملزمہ نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ریسٹورنٹ میں ویڈیو بنا کر اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے شیئر کی تھی، تاہم انہوں نے اپنے اس عمل کو صرف ایک "تعمیری تنقید" قرار دے کر بچنے کی کوشش کی، تاہم تفتیش کاروں نے تفصیلی جائزے کے بعد واضح کیا کہ ویڈیو میں استعمال ہونے والی زبان کسی بھی طرح ریویو یا معروضی جائزہ نہیں بلکہ ریستوران کے مالک اور عملے کی براہِ راست توہین اور ہتکِ عزت کے زمرے میں آتی ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ مقدمے کی تفصیلی سماعت کے بعد ابوظہبی کی مجاز عدالت نے جرم ثابت ہونے پر ملزمہ کو سخت ترین سزائیں سنائیں، جس کے تحت ہتکِ عزت کے فوجداری جرم کی پاداش میں خاتون پر 30 ہزار درہم کا جرمانہ عائد کیا گیا، عدالت نے ویڈیو بنانے میں استعمال ہونے والے آلے یعنی خاتون کا موبائل فون ضبط کرنے کا حکم دیا، سوشل میڈیا سے اس متنازعہ اور توہین آمیز ویڈیو کو فوری طور پر ہمیشہ کے لیے ڈیلیٹ کروا دیا گیا، فوجداری سزا کے ساتھ ساتھ عدالت نے متاثرہ ریسٹورنٹ مالک کے حق میں 51 ہزار درہم معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا، اس طرح سوشل میڈیا پر چند منٹ کی تشہیر اور ویوز کی دوڑ میں خاتون کو مجموعی طور پر 81 ہزار درہم تقریباً 60 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد کا بھاری نقصان اٹھانا پڑ گیا۔

ابوظہبی کے جوڈیشل ڈیپارٹمنٹ نے عوام الناس میں قانون کے فہم کو عام کرنے اور بیداری پیدا کرنے کے لیے اس واقعے پر مبنی ایک خصوصی آگاہی ویڈیو بھی جاری کی، جس کا عنوان "ایک مختصر ویڈیو، ایک مہنگی قیمت" ہے، اس مہم کا مقصد شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کو یہ باور کرانا ہے کہ آزادیِ اظہارِ رائے اور کسی کی کاروباری ساکھ کو نقصان پہنچانے کے درمیان ایک واضح قانونی لکیر موجود ہے، دوسروں کی تضحیک کرنا کبھی بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے لائق عمل نہیں۔