ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کا نفاذ کسی صورت قبول نہیں، عوام کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے، ڈاکٹر امجد علی

اتوار 5 جولائی 2026 16:35

سوات(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 جولائی2026ء) خیبر پختونخوا کے وزیر ہاسنگ ڈاکٹر امجد علی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کو کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کی آئینی و تاریخی حیثیت کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا اور اس معاملے پر تاجر برادری، صنعتکاروں اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست سوات کے پاکستان میں ادغام کے وقت والیِ سوات اور حکومتِ پاکستان کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت ملاکنڈ ڈویژن کو 100سال تک ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے، لہٰذا اس تاریخی حیثیت کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ 2018 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے فاٹا اور پاٹا کے لیے پانچ سالہ ٹیکس چھوٹ دی تھی، جبکہ موجودہ ٹیکس نفاذ کے فیصلے میں وزیراعلی خیبر پختونخوا کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر امجد علی نے کہا کہ جس وقت متعلقہ ٹیکس بل منظور ہوا، اس وقت پاکستان تحریک انصاف اتحادی حکومت کا حصہ تھی، تاہم پی ٹی آئی کے ارکان نے اس بل کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس کا نفاذ وفاقی حکومت کا اختیار ہے، اس لیے اس معاملے میں پاکستان تحریک انصاف کو موردِ الزام ٹھہرانا حقائق کے منافی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف ہر جمہوری، آئینی اور قانونی فورم پر آواز بلند کی جائے گی اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔