ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کا نفاذ کسی صورت قبول نہیں،امجدعلی

آئینی و تاریخی حیثیت کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گی: صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی

اتوار 5 جولائی 2026 19:10

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 جولائی2026ء) خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ہاؤسنگ، ڈاکٹر امجد علی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کو کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، ملاکنڈ ڈویژن کی آئینی و تاریخی حیثیت کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا اور اس معاملے پر صوبائی حکومت تاجر برادری، صنعتکاروں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوات میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ ریاست سوات کے پاکستان میں ادغام کے وقت والیِ سوات اور حکومتِ پاکستان کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت ملاکنڈ ڈویڑن کو سو سال تک ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے، لہٰذا اس تاریخی اور آئینی حیثیت کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر امجد علی نے کہا کہ سال 2018 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے فاٹا اور پاٹا کے لیے پانچ سالہ ٹیکس چھوٹ دی تھی، جبکہ موجودہ ٹیکس نفاذ کے فیصلے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ متعلقہ ٹیکس بل جب صوبائی اسمبلی سے منظور ہوا تو اس وقت پاکستان تحریک انصاف اتحادی حکومت کا حصہ تھی، تاہم پی ٹی آئی کے ارکان نے اس بل کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس کا نفاذ وفاقی حکومت کا اختیار ہے، اس لیے اس معاملے میں پاکستان تحریک انصاف کو موردِ الزام ٹھہرانا حقائق کے منافی ہے۔صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ ملاکنڈ ڈویڑن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف ہر جمہوری، آئینی اور قانونی فورم پر بھرپور انداز میں آواز بلند کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ملاکنڈ ڈویڑن کے عوام کے آئینی حقوق، تاریخی تشخص اور قانونی تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور اس سلسلے میں جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔