کھینگر میں دوہرے قتل کی اندوہناک واردات معمولی تنازع پر فائرنگ، باپ بیٹا قتل، ملزم فرار

پیر 6 جولائی 2026 23:47

گوجرخان(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 06 جولائی2026ء) گوجرخان کے نواحی علاقے ڈورہ بدحال میں مال مویشی باندھنے کے تنازع پر مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں باپ اور بیٹا جاں بحق ہو گئے، جبکہ ملزم موقع سے فرار ہو گیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس تھانہ گوجرخان کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔پولیس کے مطابق مدعی محمد منیر ولد فضل کریم نے تھانہ گوجرخان میں درج کرائی گئی رپورٹ میں مقف اختیار کیا کہ 5 جولائی کی شام اس کا بھتیجا مصدق حسین دکان سے سامان لے کر واپس آ رہا تھا کہ گاں کے قبرستان کے قریب ماسٹر عاطف ولد محمد رفیق نے اسے روک کر جانور اس کے کزن کی حویلی میں باندھنے پر گالیاں دیں اور مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکی دی۔

مدعی کے مطابق اس پر ارشد محمود اپنے بیٹے مصدق حسین کے ہمراہ موٹر سائیکل پر ملزم سے بات کرنے کے لیے موقع پر گیا، جبکہ محمد منیر، محمد اعظم اور شمائلہ بی بی بھی ان کے پیچھے پہنچ گئے۔

(جاری ہے)

اس دوران ارشد محمود نے ملزم سے اپنے بیٹے کو برا بھلا کہنے کی وجہ پوچھی تو مبینہ طور پر ماسٹر عاطف نے طیش میں آ کر 30 بور پستول سے اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ارشد محمود اور اس کا بیٹا مصدق حسین موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق ملزم فائرنگ کے بعد موقع پر موجود افراد کو بھی دھمکیاں دیتا ہوا موٹر سائیکل پر فرار ہو گیا۔ واقعے کے بعد مقتولین کی لاشیں قانونی کارروائی کے لیے ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان منتقل کر دی گئیں۔مدعی نے مقدمے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ملزم کو اس بات کا رنج تھا کہ اس کے کزن محمد جاوید نے اپنی حویلی ارشد محمود کو مال مویشی رکھنے کے لیے دے رکھی تھی، اسی رنجش پر ملزم نے اپنے بھائی محمد شفیق کے مشورے سے فائرنگ کر کے دونوں کو قتل کیا۔

پولیس نے مدعی کی درخواست پر ملزم کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے شواہد اکٹھے کرنے کے لیے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (PFSA) کی کرائم سین ٹیم کو طلب کر لیا ہے، جبکہ ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔دوسری طرف سی پی او/ڈی آئی جی راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرا نے دوہرے قتل کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اے ایس پی گوجرخان کو ملزم کی فوری گرفتاری یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی۔ انہوں نے کہا کہ ملزم کو جلد از جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے اور مقدمے کی تفتیش میرٹ پر مکمل کرتے ہوئے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔