ؒوڈھ ضلع کی تاریخی، جغرافیائی اور انتظامی حیثیت کو ختم کرنے کی منظم سازش ناقابلِ قبول ہے، جمعیت علما اسلام تحصیل وڈھ

اتوار 12 جولائی 2026 20:40

{خضدار (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 12 جولائی2026ء) جمعیت علما اسلام تحصیل وڈھ کے امیر جسٹس (ر) عبدالقادر مینگل، جنرل سیکرٹری مولانا عبدالصبور مینگل اور دیگر ذمہ داران نے اپنے مشترکہ احتجاجی بیان میں کہا ہے کہ وڈھ رقبے، آبادی، تاریخی اہمیت اور قدرتی وسائل کے لحاظ سے ضلع خضدار کی سب سے بڑی اور اہم تحصیل ہے۔ محکمہ ریونیو نے بھی سب سے پہلے وڈھ کو تحصیل اور سب ڈویژن کا درجہ دیا تھا، جو اس کی انتظامی اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ زرعی پیداوار کے اعتبار سے وڈھ بلوچستان کے اہم زرعی علاقوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں مختلف اقسام کی سبزیاں اور اجناس پیدا ہوتی ہیں جو ملک بھر کی منڈیوں میں اپنی شناخت رکھتی ہیں۔ اسی طرح معدنی وسائل کے لحاظ سے بھی وڈھ بے پناہ اہمیت کا حامل ہے۔

(جاری ہے)

ماربل، کرومائیٹ، کاپر اور دیگر معدنیات کے وسیع ذخائر سمان، پہیشی کپر، کنجڑ، سارونہ اور شاہ نورانی تک پھیلے ہوئے ہیں، جبکہ دیگر تحصیلوں میں اس نوعیت کے وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔

رہنمائوں نے کہا کہ وڈھ کی اکثریتی آبادی آر سی ڈی شاہراہ کے ساتھ واقع ہے۔ پہیشی کپر، وہیر، کنجڑ، وڈھ سٹی، درا کھالہ، گھروک، اورناچ، آڑنجی، سونارو، علی کوہ، رستم، کوراڑو، سارونہ اور شاہ نورانی تک تمام علاقے جغرافیائی طور پر ایک قدرتی انتظامی اکائی تشکیل دیتے ہیں۔ اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے زمینی حقائق اور عوامی رائے کے برعکس انتظامی تقسیم کی گئی، جو کسی بھی اصول سے مطابقت نہیں رکھتی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ صرف سیاسی اختلافات، ذاتی عناد اور مخصوص مفادات کی بنیاد پر وڈھ کی تاریخی حیثیت کو نقصان پہنچایا گیا۔اس کی واضح مثال یہ ہے کہ سارونہ اور کلغلو کو ضلع حب میں جبکہ وڈھ کے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی مرکز درگاہ شاہ نورانی کو ضلع لسبیلہ میں شامل کر دیا گیا۔ اس غیر فطری تقسیم کے نتیجے میں وڈھ کو تین مختلف اضلاع میں بانٹ دیا گیا، جو اہلیانِ وڈھ کے ساتھ کھلی ناانصافی اور ان کی تاریخی شناخت پر حملہ ہے۔

جمعیت علما اسلام تحصیل وڈھ نے واضح کیا کہ وہ اس فیصلے کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔ اس سلسلے میں وڈھ کی تمام سیاسی، سماجی، قبائلی اور عوامی قوتوں سے رابطے جاری ہیں تاکہ مشترکہ لائح عمل اختیار کرتے ہوئے ایک بھرپور عوامی تحریک چلائی جا سکے۔آخر میں جمعیت علما اسلام تحصیل وڈھ نے محکمہ ریونیو اور حکومت بلوچستان سے پرزور مطالبہ کیا کہ عوامی امنگوں، زمینی حقائق اور تاریخی حیثیت کا احترام کرتے ہوئے اس غیر فطری انتظامی تقسیم پر فوری نظرثانی کی جائے، وڈھ کی سابقہ جغرافیائی و انتظامی حیثیت بحال کی جائے اور ضلع وڈھ کا ہیڈکوارٹر وڈھ شہر کو قرار دیا جائے تاکہ عوام کے ساتھ ہونے والی تاریخی ناانصافی کا ازالہ ہو سکے۔