Live Updates

آبنائے ہرمز: محفوظ راہداری پر محصول خلاف قانون، اقوام متحدہ

یو این جمعہ 24 جولائی 2026 01:45

آبنائے ہرمز: محفوظ راہداری پر محصول خلاف قانون، اقوام متحدہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 24 جولائی 2026ء) ایران اور امریکہ کے مابین جاری جنگ میں ایک اہم سوال کا جواب تاحال نہیں مل سکا کہ مستقبل میں آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت کس طرح بحال اور منظم کی جائے گی۔ اقوام متحدہ نے دوبارہ واضح کیا ہے کہ اس گزرگاہ سے محفوظ راہداری کے بدلے محصول یا فیس لینا عالمی قانون کے خلاف ہے۔

بین الاقوامی بحری ادارے (آئی ایم او)نے بتایا ہے کہ 12 اور 13 جولائی کو لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد آبنائے سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

ادارے کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومینیگیز نے یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے خلیج فارس میں لنگر انداز تقریباً 500 جہازوں پر موجود چھ ہزار ملاحوں کی سلامتی کے بارے میں شدید تشویش ظاہر کی ہے۔

(جاری ہے)

Tweet URL

ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں عالمی تجارت کا انحصار انہی ملاحوں پر ہے۔

ان کی غیرموجودگی میں جہاز رانی کا نظام رک جائے گا۔ سمندری راستوں سے منتقل ہونے والا 90 فیصد سامان اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکے گا اور اس کے اثرات پوری دنیا کو بھگتنا پڑیں گے۔

انہوں نے خبردار کیا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں عالمی جہاز رانی پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار رہی ہے اور اب اس میں مزید دباؤ سہنے کی طاقت نہیں ہے۔ جب تک تنازع ختم نہیں ہو جاتا اس وقت تک بحری جہازوں کو آبنائے سے گزرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

اس راستے کے مستقبل کے انتظام پر بہت کم پیش رفت ہوئی ہے،کیونکہ پہلے کشیدگی میں کمی لانا ہو گی تاکہ مذاکرات آگے بڑھ سکیں۔

ملاحوں کی حفاظت اولین ترجیح

'آئی ایم او' کے مطابق، اس وقت سب سے اہم کام ان تمام ملاحوں کو محفوظ طریقے سے نکالنا ہے جو جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں پھنسے ہوئے ہیں۔

ڈومینگیز نے کہا ہے کہ جب ملاح محفوظ ہو جائیں گے تو اس کے بعد یہ یقین دہانی ضروری ہو گی کہ سمندری راستے سے بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں، آبنائے ہرمز مکمل طور پر محفوظ ہے اور پھر مرحلہ وار جہاز رانی بحال کی جائے گی تاکہ قبل از جنگ دور کی طرح دوبارہ روزانہ تقریباً 135 بحری جہازوں کی آمدورفت ممکن ہو سکے۔

یہ ضمانتیں ملنے کے بعد ادارہ بین الاقوامی قانون کے مطابق آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام پر بات چیت جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ماہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت اب بھی برقرار ہے۔کئی دیگر ممالک بھی پس پردہ دوطرفہ مذاکرات میں مصروف ہیں،جبکہ اقوام متحدہ بھی جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

امید ہے کہ صورتحال دوبارہ چند ہفتے پہلے جیسی ہو جائے گی اور پیش رفت کا سلسلہ آگے بڑھ سکے گا۔

سمندری راستوں کی آزادی

آرسینیو ڈومینیگیز نے واضح کیا کہ بین الاقوامی قانون میں ایسا کوئی طریقہ کار موجود نہیں جس کے تحت کسی ملک کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے ٹول یا فیس وصول کرنے کا حق حاصل ہو۔

انہوں نے 2007 میں طے پانے والے آبنائے ملاکا اور سنگاپور کے معاہدے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی جہازوں سے کوئی اضافی فیس نہیں لی جاتی۔

اس نظام میں کسی طرح کی فیس یا محصول عائد نہیں کیا جاتا اور یہ بات واضح رہنی چاہیے۔

شہریوں کو تحفظ دینے کا مطالبہ

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے وابستہ 10 غیرجانبدار ماہرین نے امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کی سخت مذمت کی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ایران میں شہری تنصیبات، خصوصاً جنوبی بندرگاہوں، چاہ بہار شہر میں بجلی کی فراہمی، بوشہر کے جوہری بجلی گھر کے قریبی علاقوں، ریلوے لائنوں، ایک پل، پانی صاف کرنے کے پلانٹ، سمنان کے ہوائی اڈے، گندم کے گودام، بوتل بند پانی کی فیکٹری اور اہواز میں بچوں کے سرطان ہسپتال کے قریبی علاقوں پر حملوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ان حملوں کے باعث سرطان کے مریض بچوں کو ہسپتال سے منتقل کرنا پڑا جبکہ پانی کا پلانٹ تباہ ہونے سے تقریباً 10 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی عوام ایک مرتبہ پھر امریکی حملوں اور اپنی حکومت کے اندرونی جبر کے درمیان پس رہے ہیں۔

عالمی تجارت میں غیرمعمولی ترقی

اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی (انکٹاڈ) کے مطابق، 2026 کی پہلی ششماہی میں عالمگیر تجارت کی مجموعی مالیت 13.7 کھرب ڈالر تک پہنچ گئی تھی جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 12.5 فیصد زیادہ ہے۔

اس اضافے کی بنیادی وجہ تجارت کے حجم میں اضافہ نہیں بلکہ ایران۔امریکہ جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں ہونے والا نمایاں اضافہ ہے۔

اسی عرصہ میں خدمات کی عالمی تجارت میں بھی 10.5 فیصد اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں عالمی تجارت کی مجموعی مالیت میں تقریباً 2 کھرب ڈالر بڑھ گئی ہے اور اگر یہی رجحان برقرار رہا تو 2026 کے آخر تک یہ نئی ریکارڈ سطح کو چھو سکتی ہے۔

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات