غریب کا بچہ تب لیڈر بنےگا، جب کوئی امیرزادہ پارٹی سیٹ پر قبضہ کرکے نہیں بیٹھا ہوگا

جب پارٹی کا مالک خود وزیراعظم کا امیدوار نہیں گا تو مڈل کلاس والے چیئرمین اور وزیراعظم بنیں گے۔ اقرارالحسن

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ 24 جولائی 2026 00:12

غریب کا بچہ تب لیڈر بنےگا، جب کوئی امیرزادہ پارٹی سیٹ پر قبضہ کرکے نہیں ..
لاہور (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 22 جولائی 2026ء ) سربراہ عوام راج پارٹی اقرارالحسن نے کہا ہے کہ غریب کا بچہ تب لیڈر بنےگا، جب کوئی امیرزادہ پارٹی سیٹ پر قبضہ کرکے نہیں بیٹھا ہوگا۔ ایکس پر اپنے ویڈیو ٹویٹ انہوں نے کہا کہ غریب کا بچہ تب لیڈر بنے گا جب پارٹی میں کوئی امیرزادہ پہلے سے چیئرمین کی سیٹ پر قبضہ کر کے نہیں بیٹھا ہو گا، جب پارٹی کا “مالک” خود ہی وزیراعظم کا امیدوار نہیں گا۔

عوام راج کے مالک عام لوگ اور اُن کی بچے ہوں گے، مڈل کلاس والے چیئرمین اور وزیراعظم بنیں گے کیونکہ اقرارالحسن زندگی میں کبھی کوئی عہدہ نہیں لے گا، انشاء اللہ پارٹی میں بھی اور ملک میں بھی عوام کا راج ہو گا۔۔۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ۔
اسی طرح سربراہ عوام راج پارٹی اقرارالحسن نے گزشتہ روز اپنے ٹویٹ میں کہا کہ بھارت میں جین زی نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں، پاکستانی جین زی دوسروں کی کرسی کی لڑائی چھوڑ کر کب اپنا حق مانگیں گے؟ ایکس پر اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ بھارت میں جین زی اپنے حقوق کے لیے نئی تاریخ رقم کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

پاکستانی جین زی کب دوسروں کی کرسی کی لڑائی چھوڑ کر اپنا حق مانگے گی؟ سب سے پہلے اپنے لیڈروں سے سیاسی جماعتوں میں میرٹ اور انٹرنل الیکشن کے ذریعے آگے آنے کا برابر کا موقع مانگو، طلباء تنظیموں کے ذریعے سیاست اور قیادت کا حق مانگو، بلدیاتی نظام کے ذریعے گلی محلے کی قیادت کرنے اور مسائل حل کرنے کا اختیار مانگو۔ انہوں نے کہا کہ نظام سے لڑنا ہے تو پہلے اپنا ایک جمہوری نظام بنانے کی جدوجہد کرو، سسٹم کے سامنے سسٹم بناؤ۔

۔۔ تمہاری تقدیر صرف تم بدلو سکتے ہو، کوئی شخصیت یا خاندان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں احتجاج کے مناظر بہت سارے ایسے ہیں جن کو دیکھ کر آنکھیں بھیک جاتی ہیں، ایسے لگا جیسے پورا بھارت احتجاج میں ان جین زی کے ساتھ کھڑا ہوگیا ہے۔لوگ بھارت بھر سے ان کو ڈلیوری کے ذریعے کھانا پہنچا رہے ہیں، صفائی کررہے ہیں، مختلف لوگ اداکار ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کررہے ہیں۔

لیکن پاکستان میں ایسے مناظر دیکھنے کو نہیں ملتے، ہم نے سری لنکا، بنگلا دیش نیپال میں جین زی کو نکلتے دیکھا۔ لیکن شاید پاکستان میں ہم جین زی کو نکلتے نہیں دیکھیں گے۔ کیونکہ پاکستانی جین زی نے ہمیشہ دوسروں کی کرسی کی لڑائی لڑی ہے، کبھی بھٹو، نوازشریف اور عمران خان کی لڑائی لڑتے ہیں، یہ سب لوگ گندے نظام کا حصہ ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے بل بوتے پر اقتدار میں رہے۔ لیکن جب اقتدار سے نکالے جاتے ہیں تو پھر انقلابی بن جاتے ہیں۔