غزہ: غذائی تحفظ میں بہتری کو وسائل کی کمیابی سے خطرہ، یو این ادارے

یو این جمعہ 24 جولائی 2026 01:45

غزہ: غذائی تحفظ میں بہتری کو وسائل کی کمیابی سے خطرہ، یو این ادارے

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 24 جولائی 2026ء) اقوام متحدہ کے تین اداروں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں غذائی تحفظ اور بچوں کی غذائیت کی صورتحال میں بہتری ضرور آئی ہے، لیکن انسانی امداد، مالی وسائل کی فراہمی اور بحالی کی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار نہ رہا تو یہ مثبت پیش رفت کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت(ایف اے او)، عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) اور عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کے مطابق، جنگ سے تباہ حال علاقے میں لوگ اب بھی اپنے روزگار، مقامی غذائی نظام اور بنیادی سہولتوں کی بحالی میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

Tweet URL

'ڈبلیو ایف پی' کے قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر کارل سکو کا کہنا ہے کہ علاقے میں مجموعی انسانی صورتحال اب بھی انتہائی سنگین ہے۔

(جاری ہے)

لوگ صاف پانی، نکاسی آب اور ادویات جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ ان کی بحالی کے لیے مسلسل رسائی، مناسب مقدار میں مالی وسائل کی فراہمی اور پائیدار استحکام ناگزیر ہے۔

غذائی بحران برقرار

عالمی غذائی تحفظ کے نگران ادارے (آئی پی سی)کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق غزہ کی تقریباً 67 فیصد آبادی یا 14 لاکھ افراد کو شدید درجے کے غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے جسے 'آئی پی سی فیز 3' یا اس سے بالائی سطح پر شمار کیا جاتا ہے۔

اب بھی تقریباً دو لاکھ 12 ہزار افراد 'آئی پی سی فیز 4' یعنی ہنگامی درجے کے غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کی بڑی تعداد اسرائیل کے زیر قبضہ علاقے میں 'زرد لکیر' کے قریب رہتی ہے جہاں انسانی امداد اور بنیادی خدمات تک رسائی بدستور انتہائی محدود ہے۔

امدادی سرگرمیوں میں اضافہ

اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق، اکتوبر 2025 میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے بعد انسانی امداد اور تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں صورتحال تیزی سے بہتر ہوئی۔

مئی میں ہی تقریباً 15 لاکھ افراد تک خوراک کے پیکٹ پہنچائے گئے، سات لاکھ افراد کو نقد امداد فراہم کی گئی اور پانچ سال سے کم عمر کے 60 فیصد بچوں کو غذائیت سے متعلق سہولتیں میسر آئیں۔ شدید غذائی قلت کا شکار بچوں کے علاج کی سہولتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔

اس سے برعکس ستمبر 2025 میں صرف پانچ لاکھ افراد کو کسی نہ کسی شکل میں غذائی امداد ملی تھی جبکہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کی غذائی پروگراموں تک رسائی ایک فیصد سے بھی کم تھی۔

ناکافی اور غیرمعیاری خوراک

تینوں اداروں کے مطابق، غزہ میں تقسیم کی جانے والی خوراک نہ تو مقدار کے اعتبار سے کافی ہے اور نہ ہی معیار اور غذائیت کے اعتبار سے متوازن ہے۔ تازہ سبزیوں، پھلوں اور پروٹین سے بھرپور غذاؤں کی تجارتی پیمانے پر درآمد بھی بے قاعدہ ہے۔

اگرچہ غزہ میں داخلے کے راستوں تک رسائی پہلے سے بہتر ہوئی ہے تاہم جنوبی علاقے میں واقع کیرم شالوم کا سرحدی راستہ ہی امدادی سامان کی واحد گزرگاہ ہے جس کے باعث بحالی کے لیے ضروری سامان کی حسب ضرورت ترسیل نہیں ہو رہی۔

اداروں کے مطابق، غذائی قلت کی شرح میں بھی کمی آئی ہے جس کی بنیادی وجہ غذائیت سے متعلق حفاظتی پروگراموں میں تیز تر توسیع اور شدید و درمیانی درجے کی غذائی قلت کے علاج تک بہتر رسائی ہے۔ تاہم یہ کامیابیاں مکمل طور پر امداد پر منحصر ہیں۔

74 ہزار بچوں میں غذائی قلت

آئندہ ایک سال کے دوران تقریباً 74 ہزار بچوں کو شدید غذائی قلت کے علاج کی ضرورت ہوگی جبکہ تقریباً 25 ہزار حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو اضافی غذائی معاونت درکار ہو گی۔

شمالی غزہ، غزہ شہر، دیر البلح اور خان یونس میں غذائی قلت کی صورتحال 'آئی پی سی' کے دوسرے درجے تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

زدر لکیر کے قریب بعض علاقوں تک عدم رسائی کے باعث وہاں کی صورتحال کا درست اندازہ نہیں لگایا جا سکا۔

یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا ہے کہ اب بھی بہت سے بچے بھوک کا شکار ہیں اور طویل عرصہ تک مناسب غذا نہ ملنے کے باعث بعض بچوں کی مکمل صحت یابی شاید کبھی ممکن نہ ہو سکے گی۔

زرعی پیداوار کی بحالی کا مسئلہ

اقوام متحدہ کے اداروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ غزہ میں معیشت اور روزگار کی مکمل بحالی ابھی شروع نہیں ہوئی، تاہم ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہاں کسانوں اور مویشی پالنے والوں کو زرعی زمین، بیج، کھاد، زرعی آلات، مویشیوں کی دیکھ بھال، آبپاشی کے لیے توانائی اور دیگر ضروری سہولتیں میسر ہوں وہاں مقامی غذائی پیداوار دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔

مویشی پالنے کے شعبے میں جہاں مسلسل معاونت فراہم کی گئی وہاں بھیڑوں کی تعداد میں 33 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بعض مقامات پر مقامی آبادی نے چھوٹے پیمانے پر معاشی سرگرمیاں بھی دوبارہ شروع کر دی ہیں، تاہم جب تک غزہ میں سامان کی آمد پر پابندیاں برقرار رہیں گی، یہ کوششیں بڑے پیمانے پر کامیاب نہیں ہو سکتیں۔

غزہ کی 70 فیصد سے زیادہ زرعی زمین ناقابل رسائی ہے جبکہ تین فیصد رقبہ ہی قابل کاشت رہ گیا ہے۔

'ایف اے او' کے ڈائریکٹر جنرل چو ڈونگ یو نے کہا ہے کہ غزہ میں غذائی تحفظ اس وقت تک بحال نہیں ہو سکتا جب تک مقامی غذائی پیداوار دوبارہ شروع نہ ہو اور کسان، مویشی بان، ماہی گیر اور دیگر پیداواری شعبوں سے وابستہ افراد اپنے روزگار بحال نہ کر لیں۔