جعلی کیبنٹ سیکریٹری بن کر سرکاری افسران کو لُوٹنے والا نوسرباز گرفتار، جسمانی ریمانڈ منظور

ملزم طویل عرصے سے انتہائی منظم طریقے سے اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے روپ دھار کر مالیاتی فراڈ کی اسکیمیں چلا رہا تھا، ملزم کے خلاف اسی نوعیت کے فراڈ اور دھوکہ دہی کے متعدد مقدمات درج

Sajid Ali ساجد علی منگل 14 جولائی 2026 14:06

جعلی کیبنٹ سیکریٹری بن کر سرکاری افسران کو لُوٹنے والا نوسرباز گرفتار، ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جولائی 2026ء) نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ٹیکسلا میں کارروائی کرتے ہوئے خود کو کیبنٹ سیکریٹری کامران علی افضل ظاہر کرکے سینئر سرکاری افسران سے لاکھوں روپے ہتھیا نے والے نوسرباز کو گرفتار کر لیا، ملزم نے پشاور میں این ٹی سی ڈائریکٹر نور حکیم کو نشانہ بنا کر ان سے رقم بٹوری تھی، جوڈیشل مجسٹریٹ نے ملزم کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے اسے 15 جولائی کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

 انگریزی اخبار دی نیشن کے مطابق این سی سی آئی اے کے سب انسپکٹر بابر علی کی سربراہی میں ایک تفتیشی ٹیم نے ٹیکسلا میں چھاپہ مار کر ملزم غضنفر اسحاق کو گرفتار کیا، ملزم ایک طویل عرصے سے انتہائی منظم طریقے سے اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے روپ دھار کر مالیاتی فراڈ کی اسکیمیں چلا رہا تھا، ملزم غضنفر اسحاق اپنے نام پر رجسٹرڈ مختلف موبائل فون نمبرز اور واٹس ایپ کا استعمال کرتے ہوئے خود کو ملک کے سب سے اعلیٰ سول سرونٹ یعنی کیبنٹ سیکرٹری کامران علی افضل ظاہر کرتا اور پھر اثر و رسوخ کا رعب جما کر افسران سے رقوم کا مطالبہ کرتا تھا۔

(جاری ہے)

کیس کے ایک مدعی اور پشاور میں این ٹی سی ڈائریکٹر نور حکیم نے انکشاف کیا کہ انہیں ایک شخص کی جانب سے کال موصول ہوئی جس نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ وہ کیبنٹ سیکریٹری بول رہا ہے، ملزم نے اس دھوکہ دہی کے ذریعے حاصل کی گئی رقم کو چھپانے کے لیے صفدر شاہ نامی شخص کے نام پر رجسٹرڈ یوپیسہ موبائل والٹ اکاؤنٹ کا استعمال کیا تاکہ پولیس کو مالیاتی ٹرانزیکشن کی ٹریل نہ مل سکے۔

بتایا گیا ہے کہ دورانِ تفتیش این سی سی آئی اے کے حکام نے ملزم کے قبضے سے چار موبائل فون برآمد کیے ہیں، حیران کن طور پر ان برآمد شدہ آلات کے انٹرنیشنل موبائل ایکوپمنٹ آئیڈینٹیٹی (IMEI) نمبرز کو مبینہ طور پر تبدیل کیا گیا تھا، جو نوسرباز اپنی شناخت چھپانے اور سکیورٹی اداروں کو چکمہ دینے کے لیے استعمال کرتا تھا، برآمد شدہ ڈیجیٹل آلات کا فرانزک تجزیہ تاحال جاری ہے تاکہ مزید ثبوت اکٹھے کیے جا سکیں۔

تحقیقاتی اداروں نے انکشاف کیا ہے کہ ملزم غضنفر اسحاق ایک عادی مجرم ہے جس کے خلاف پنجاب کے متعدد اضلاع میں اسی نوعیت کے فراڈ اور دھوکہ دہی کے مقدمات درج ہیں، ملزم کے خلاف حافظ آباد، شیخوپورہ، بھکر، واہ کینٹ اور لاہور میں مقدمات درج ہیں، ان تمام درج مقدمات میں بھی ملزم نے اسی طرح کا روپ دھار کر اور شناختی ہیرا پھیری کرکے معزز شخصیات اور سرکاری حکام کو اپنا نشانہ بنایا تھا۔

این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ فرانزک انویسٹی گیشن کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا ملزم اکیلا ہی یہ کارروائیاں کر رہا تھا یا وہ کسی بڑے منظم گروہ کا حصہ ہے جو ملکی بیوروکریسی کو بلیک میل کرنے میں ملوث ہے جب کہ جوڈیشل مجسٹریٹ محمد عباس شاہ کے روبرو پیشی کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت سے ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، عدالت نے دلائل سننے کے بعد غضنفر اسحاق کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے تفتیشی ٹیم کو حکم دیا کہ ملزم کو 15 جولائی کو دوبارہ پیش کیا جائے۔