ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث 2 ملزمان حیدرآباد سے گرفتار

گرفتار ملزمان کا تعلق بین الصوبائی ڈکیت اور اسٹریٹ کرمنلز کے بدنام زمانہ "اسلم بابا گروپ’’ سے ہے

منگل 14 جولائی 2026 18:13

ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث 2 ملزمان حیدرآباد سے گرفتار
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 جولائی2026ء) ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث 2 ملزمان کو حیدرآباد سے گرفتار کر لیا گیا ، گرفتار ملزمان اسلم بابا گروپ کیلئے کام کرتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق کراچی کے پوش علاقے کلفٹن تین تلوار یادگار کے قریب گزشتہ روز ہونے والی کروڑوں روپے کی ڈکیتی اور نوجوان ڈاکٹر آکاش کے ہائی پروفائل قتل کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آئی۔

پولیس نے قتل کی واردات میں ملوث 2 اہم ملزمان کو حیدرآباد سے گرفتار کر لیا ، واردات کے بعد ملزمان کراچی سے فرار ہو گئے تھے، جنہیں حیدرآباد پولیس نے ایک کامیاب کارروائی کے دوران حراست میں لیا۔حکام نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کا تعلق بین الصوبائی ڈکیت اور اسٹریٹ کرمنلز کے بدنام زمانہ "اسلم بابا گروپ’’ سے ہے اور وہ اسی گروہ کے لیے کام کرتے تھے۔

(جاری ہے)

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں گرفتار ملزمان انتہائی پیشہ ور مجرم ہیں اور ماضی میں متعدد سنگین جرائم کے تحت جیل بھی کاٹ چکے ہیں۔پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق اس منظم ڈکیت گروہ میں ایک لڑکی بھی شامل ہے، جو ممکنہ طور پر ریکی کرنے یا دیگر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملزمان کی معاونت کرتی ہے، جس کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپے مار رہی ہے۔

گزشتہ روز کلفٹن میں تین تلوار کے قریب نجی بینک کے باہر ڈاکوؤں نے اندھا دھند فائرنگ کر کے نوجوان ڈاکٹر آکاش کو قتل اور ان کے سیکیورٹی گارڈ کو زخمی کر دیا تھا۔ایس ایس پی ساؤتھ کا کہنا تھا کہ مقتول ڈاکٹر آکاش ایک بینک سے 50 لاکھ روپے کی رقم لے کر دوسرے بینک جا رہے تھے۔ کار میں 25، 25 لاکھ روپے کے دو پیکٹ موجود تھے، جیسے ہی ڈاکٹر آکاش کی گاڑی مطلوبہ بینک کے قریب پہنچی، تعاقب میں مصروف موٹرسائیکل سوار ڈاکوؤں نے دھوا بول دیا۔

جائے وقوعہ سے ملنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا کہ ڈاکو گارڈ پر فائرنگ کر رہے ہیں اور رقم لوٹ رہے ہیں۔ مزاحمت یا فائرنگ کے دوران ڈاکٹر آکاش کو دو گولیاں لگیں، جن میں سے دل پر لگنے والی گولی جان لیوا ثابت ہوئی ، ڈاکو کار میں موجود 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ روپے کا ایک پیکٹ لوٹ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جبکہ دوسرا پیکٹ کار میں ہی رہ گیا۔

ڈاکٹر آکاش کے قتل کے خلاف مقتول کے خاندان اور سول سوسائٹی کی جانب سے لاش تین تلوار چورنگی پر رکھ کر دھرنا دیا گیا اور شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا، جس کے باعث بدترین ٹریفک جام رہا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مقتول ڈاکٹر آکاش کے چچا کھیم چند نے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا "اگر سڑکوں پر اس طرح ہمارے قابل اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو سرِعام گولیوں کا نشانہ بنایا جائے گا، تو پھر کون سا ذہین اور قابل انسان اس ملک میں رہنا پسند کرے گا ’’پولیس کی جانب سے دعووں کے باوجود رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران کراچی میں اسٹریٹ کرائم ، گاڑیوں ، موٹر سائیکل اور موبائل فونز چھیننے کی وارداتیں عروج پر رہیں انتیس ہزار سے زائد وارداتیں ہوئیں۔