ٹیلی کام صارفین کا خفیہ ڈیٹا غیرقانونی فروخت کرنے والے گروہ کے خلاف کریک ڈاؤن

پی ٹی اے کی شکایت پر تین ملزمان گرفتار، کال ریکارڈ، لوکیشن ڈیٹا، فنگر پرنٹس اور شناختی معلومات کی غیرقانونی خرید و فروخت کے شواہد برآمد

جمعرات 16 جولائی 2026 21:08

ٹیلی کام صارفین کا خفیہ ڈیٹا غیرقانونی فروخت کرنے والے گروہ کے خلاف ..
اسلام آباد/کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 جولائی2026ء) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی ای) کی شکایت پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ٹیلی کام صارفین کا خفیہ ڈیٹا غیرقانونی طور پر فروخت کرنے والے ایک گروہ کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن کرتے ہوئے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ کارروائی کے دوران کال ریکارڈ، لوکیشن ڈیٹا اور دیگر حساس معلومات کی غیرقانونی خرید و فروخت کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

پی ٹی اے کے مطابق چھاپے کے دوران ملزمان کے قبضے سے پانچ موبائل فون، آٹھ بائیومیٹرک ویریفیکیشن ڈیوائسز اور 43 مشتبہ سمز برآمد کی گئیں۔ ضبط شدہ موبائل فونز کے فرانزک تجزیے سے انکشاف ہوا کہ واٹس ایپ کے ذریعے خفیہ ٹیلی کام ڈیٹا کی غیرقانونی خرید و فروخت کی جا رہی تھی۔

(جاری ہے)

ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار ملزمان کال ڈیٹیل ریکارڈ (سی ڈی آر)، آئی ایم ای آئی نمبرز، سبسکرائبر کی ذاتی معلومات اور لوکیشن ڈیٹا غیرقانونی طور پر فروخت کرنے میں ملوث تھے۔

حکام کے مطابق برآمد شدہ ریکارڈ میں شہریوں کے فنگر پرنٹس، قومی شناختی کارڈ کی تفصیلات اور مالی لین دین سے متعلق حساس معلومات بھی شامل ہیں۔پی ٹی اے نے بتایا کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ اس غیرقانونی نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔اتھارٹی حکام نے کہا کہ صارفین کے ذاتی اور خفیہ ٹیلی کام ڈیٹا کا تحفظ ادارے کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور حساس معلومات کی غیرقانونی خرید و فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

پی ٹی اے کے مطابق ادارہ اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی ای) سائبر جرائم اور ڈیٹا لیکس کی روک تھام کے لیے باہمی تعاون مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ جدید فارنزک ٹیکنالوجی کی مدد سے مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ اس نیٹ ورک میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔