پی ٹی اے نے صارفین کی اجازت کے بغیر شناختی کارڈ پر سمیں جاری کرنے پر موبائل کمپنیوں پر 74 کروڑ روپے کے جرمانے عائد کردئیے

موبائل کمپنیوں نے فرنچائزز اور بائیومیٹرک نظام کی موثر نگرانی نہیں کی، فرنچائز کی خلاف ورزی کی ذمہ داری بھی موبائل کمپنی پر عائد ہوگی، پی ٹی اے

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات 16 جولائی 2026 19:11

پی ٹی اے نے صارفین کی اجازت کے بغیر شناختی کارڈ پر سمیں جاری کرنے پر ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 16 جولائی 2026ء ) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ( پی ٹی اے) نے صارفین کی اجازت کے بغیر شناختی کارڈ پر سمیں جاری کرنے پر موبائل کمپنیوں پر 74 کروڑ روپے کے جرمانے عائد کردئیے، موبائل کمپنیوں نے فرنچائزز اور بائیو میٹرک نظام کی موثر نگرانی نہیں کی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پی ٹی اے نے صارفین کی اجازت کے بغیر شناختی کارڈ پر سمین جاری ہونے پر چار موبائل کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 74 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کردیا۔

ان تمام موبائل کمپنیوں کو سم اجرا میں سنگین بےضابطگیوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ موبائل کمپنیوں کو مقررہ مدت میں جرمانے ادا نہ کرنے پر مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔

(جاری ہے)

موبائل کمپنیوں نے فرنچائزز اور بائیومیٹرک نظام کی موثر نگرانی نہیں کی، فرنچائز کی خلاف ورزی کی ذمہ داری بھی موبائل کمپنی پر عائد ہوگی۔ غیرقانونی سم اجرا شناختی چوری، سائبر فراڈ اور مالی جرائم کا باعث بن سکتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق زونگ پر 15 کروڑ 56 لاکھ روپے، جاز پر 11 کروڑ 67 لاکھ روپے، ٹیلی نار پر 11 کروڑ 67 لاکھ روپے اور یوفون پر 23 کروڑ 34 لاکھ روپے سے زائد جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ مزید برآں نیوز ایجنسی کے مطابق ٹیلی کام صارفین کا خفیہ ڈیٹا فروخت کرنے والے گروہ کے خلاف بڑا کریک ڈائون کیا گیا اور اس دوران پی ٹی اے کی شکایت پر تین ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔

جن کے قبضہ سے کال ریکارڈ اور لوکیشن سمیت حساس معلومات کی غیرقانونی خرید و فروخت کے شواہد سامنے آ گئے ہیں۔پی ٹی اے کی شکایت پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی لاہور نے خفیہ ٹیلی کام ڈیٹا فروخت کرنے والے گروہ کے خلاف کامیاب کارروائی کرتے ہوئے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ کارروائی کے دوران پانچ موبائل فون، آٹھ بائیومیٹرک ویری فکیشن سسٹم ڈیوائسز اور 43 مشتبہ سمز برآمد کی گئیں۔