وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیر صدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کمیٹی کا اہم اجلاس

ہفتہ 18 جولائی 2026 22:59

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیر صدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کمیٹی ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 18 جولائی2026ء) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں منعقد ہوا جس میں دیر موٹر وے منصوبے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ موڈ پر تعمیر کرنے کی اصولی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس کو منصوبے سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 29 کلومیٹر طویل دیر موٹر وے چکدرہ انٹرچینج سے بارون، ضلع لوئر دیر تک تعمیر کی جائے گی جبکہ منصوبے کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 69 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے منصوبے پر تیز رفتاری سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے موٹر وے کی تعمیر کے لیے درکار زمین کی خریداری کا عمل فوری طور پر شروع کرنے اور منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے واضح ٹائم لائنز وضع کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ عوام کو اس اہم منصوبے کے ثمرات بر وقت میسر آسکیں۔

(جاری ہے)

وزیر اعلیٰ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبوں پر موثر اور تیز رفتار عملدرآمد کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ فریم ورک میں ضروری ترامیم تجویز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی تاکہ ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے دورانیہ کم کیا جا سکے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ دیر موٹر وے منصوبہ مالاکنڈ ڈویڑن کے عوام کے لیے عمران خان کی صوبائی حکومت کا ایک اہم تحفہ ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف سفر کا دورانیہ کم ہوگا بلکہ ایندھن کی بچت اور سفری اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی جس سے عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ دیر موٹر وے سیاحت کے فروغ اور مقامی معیشت کی مضبوطی میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے مالاکنڈ ڈویڑن کے دور افتادہ سیاحتی علاقوں تک رسائی مزید بہتر ہوگی، جس کے نتیجے میں سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور علاقے کی معاشی ترقی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔اجلاس میں پشاور۔ڈی آئی خان موٹر وے اور سوات موٹر وے فیز ٹو منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا اور ان منصوبوں پر بروقت عملدرآمد کے مختلف پہلووں پر غور کیا گیا۔

صوبائی کابینہ اراکین، آفتاب عالم ایڈووکیٹ، شکیل خان، شفیع جان، مزمل اسلم کے علاوہ چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری پلاننگ و ڈویلپمنٹ اسلام زیب، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری عامر سلطان ترین، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کمیٹی کے دیگر اراکین بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔