وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت اوگرا، آئل انڈسٹری اور متعلقہ اداروں کا اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس کا انعقاد

ہفتہ 18 جولائی 2026 22:59

وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت اوگرا، آئل انڈسٹری اور ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 18 جولائی2026ء) وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت اوگرا، آئل انڈسٹری اور متعلقہ اداروں کا اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں نئے پرائسنگ میکنزم، اس کے نفاذ اور درپیش تکنیکی و انتظامی امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں صنعتی نمائندوں نےاصلاحاتی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے مختلف تجاویز پیش کیں جبکہ حکومت نے شفاف، مارکیٹ پر مبنی اور مرحلہ وار ڈی ریگولیشن کے ذریعے یومیہ قیمتوں کے نظام کے کامیاب نفاذ کے عزم کا اعادہ کیا۔

وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)، آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی)، آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن آف پاکستان (او میپ)، ریفائنریز، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور پٹرولیم ڈویژن کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے ہفتہ وار نظام کو یومیہ بنیادوں پر منتقل کرنے کے نئے طریقہ کار پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔

(جاری ہے)

اجلاس میں صنعتی نمائندوں کو نئے پرائسنگ میکنزم پر بریفنگ دی گئی اور اس کے نفاذ کے دوران درپیش ممکنہ تکنیکی و انتظامی مسائل پر ان کی آراء حاصل کی گئیں تاکہ نئے نظام پر ہموار انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔شرکاء نے اس اصلاحاتی اقدام کو پاکستان کے پٹرولیم شعبے میں ڈی ریگولیشن کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے اس کا بھرپور خیرمقدم کیا۔

وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے بتایا کہ یہ اصلاحات وزیراعظم کی ہدایت اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد متعارف کرائی جا رہی ہیں جن کا مقصد قواعد پر مبنی پٹرولیم نظام کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے طریقہ کار کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی خوردہ قیمتیں شفاف اور فارمولہ پر مبنی نظام کے ذریعے مارکیٹ کی حقیقی صورتحال کے مطابق مقرر ہوں گی جس سے صارفین کو سیاسی بنیادوں پر قیمتوں میں ردوبدل کے اثرات سے تحفظ حاصل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ یومیہ قیمتوں کے نظام کا نفاذ پاکستان کی معیشت کو زیادہ مسابقتی اور مارکیٹ پر مبنی بنانے کی جانب بنیادی پیش رفت ہے۔ ہفتہ وار قیمتوں کے اعلان اور حکومتی منظوری کے روایتی طریقہ کار سے علیحدگی کے نتیجے میں مارکیٹ میں ناجائز منافع خوری اور مصنوعی اتار چڑھاؤ کے امکانات میں کمی آئے گی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ نیا نظام صارفین کے لیے زیادہ شفاف اور منصفانہ قیمتوں کو یقینی بنائے گا جبکہ قیمتوں کے تعین میں سیاسی مداخلت کی بجائے مارکیٹ کے حقیقی عوامل کو بنیاد بنایا جائے گا۔

شرکاء کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ یہ اصلاحات حکومت کی مرحلہ وار ڈی ریگولیشن حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں جس کے تحت حکومتی مداخلت کم کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین مارکیٹ کی قوتوں کے سپرد کیا جائے گاجس طرح زرمبادلہ کی شرح میں روزانہ تبدیلی آتی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پٹرولیم ڈویژن، اوگرا اور صنعتی شراکت داروں کے تعاون سے جامع معیاری طریقہ کار (ایس او پیز) تیار کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن (آئی ای ایف ایم)، ریفائنری ایڈجسٹمنٹس اور ٹرو اپ میکنزم سمیت تمام تکنیکی معاملات باہمی مشاورت سے حل کیے جا رہے ہیں تاکہ نظام کی کامیاب منتقلی یقینی بنائی جا سکے۔اوگرا نے اجلاس کو یقین دہانی کرائی کہ ادارہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اس مقصد کے لیے اپنے داخلی طریقہ کار اور ڈیٹا کی فراہمی کے نظام کو جدید بنایا جا رہا ہے۔

اتھارٹی روزانہ پٹرولیم قیمتوں کا ڈیٹا بھی جاری کرے گی تاکہ شفافیت اور عوامی رسائی میں اضافہ ہو۔اجلاس میں سپلائی چین، ذخائر کے انتظام اور حقیقی وقت میں ڈیٹا کی دستیابی سمیت مختلف عملی پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکومت نےصنعتی نمائندوں کو یقین دلایا کہ تمام انتظامی اور تکنیکی مسائل کے حل کے لیے مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے جو منتقلی کے عمل کی نگرانی اور باہمی اتفاق رائے سے مسائل کے حل کو یقینی بنائے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اوگرا، ضلعی انتظامیہ، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، ڈیلرز، او سی اے سی اور او میپ سمیت تمام متعلقہ اداروں کاکردار اس اصلاحاتی عمل کی کامیابی کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر بڑی اصلاح کے آغاز میں بعض عملی مشکلات سامنے آتی ہیں، تاہم حکومت عوامی مفاد کے تحفظ، صنعت کے استحکام اور پٹرولیم شعبے کی طویل المدتی پائیداری کے لیے پُرعزم ہے۔

اجلاس کے دوران او سی اے سی، او میپ، ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے نمائندوں نے یومیہ قیمتوں کے نظام سے متعلق بعض عملی خدشات اور تجاویز پیش کیں۔ وفاقی وزیر نے یقین دلایا کہ تمام جائز تحفظات کو مسلسل مشاورت اور تعاون کے ذریعے دور کیا جائے گا۔اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر علی پرویز ملک نےپٹرولیم ڈویژن اور اوگرا کو ہدایت کی کہ صنعتی نمائندوں کے ساتھ مزید مشاورتی اجلاس منعقد کیے جائیں تاکہ تکنیکی فارمولے کو مزید بہتر بنایا جا سکے باقی ماندہ مسائل کا حل نکالا جائے اور یومیہ پٹرولیم قیمتوں کے نظام کا کامیاب نفاذ یقینی بنایا جا سکے۔