پائیدار امن ہی سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع کی ضمانت ہے،فیصل کنڈی

ہفتہ 18 جولائی 2026 21:03

پائیدار امن ہی سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع کی ضمانت ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 جولائی2026ء) گورنر خیبرپختونخوا، فیصل کریم کنڈی نے پاکستان ہلالِ احمر خیبرپختونخوا کے بنیادی مرکز صحت (بی ایچ یو) باڑہ گیٹ میں مردانہ او پی ڈی کا افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر انہوں نے مردانہ او پی ڈی اور ایمرجنسی وارڈ کا تفصیلی معائنہ کیا اور فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان ہلالِ احمر خیبرپختونخوا اور نارتھ ویسٹ ہسپتال کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت مردانہ او پی ڈی قائم کی گئی ہے، جہاں نارتھ ویسٹ ہسپتال کے دو ماہر ڈاکٹر بھی مہینے میں ایک دن مریضوں کا مفت معائنہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہلالِ احمر اور نارتھ ویسٹ ہسپتال کے باہمی اشتراک سے مریضوں کو مفت ادویات بھی فراہم کی جائیں گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری اور بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔ مہنگائی کے موجودہ حالات میں ماہر ڈاکٹروں کی مفت خدمات اور بلا معاوضہ ادویات کی فراہمی ایک قابلِ قدر فلاحی اقدام ہے۔

انہوں نے کہا کہ پشاور سمیت پورے خیبرپختونخوا میں عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ایسے منصوبوں کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جا رہا ہے، جبکہ صوبے کے مختلف اضلاع میں مفت طبی کیمپ بھی منعقد کیے جا رہے ہیں۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ صدرِ پاکستان ہر مرحلے پر پاکستان ہلالِ احمر کی فلاحی سرگرمیوں کی بھرپور سرپرستی اور حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

انہوں نے پاکستان ہلالِ احمر کے معاون اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ اتفاق کڈنی ہسپتال اور سندس فاؤنڈیشن کے ساتھ بھی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جا چکے ہیں تاکہ عوام کو مزید معیاری اور جدید طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری مسلح افواج اور سیکیورٹی اداروں نے لازوال قربانیاں دی ہیں اور خیبرپختونخوا کے عوام اس قومی جدوجہد میں اپنی افواج اور سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پائیدار امن ہی سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع کی ضمانت ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے معاملے پر وہ صوبائی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور صوبے سے منتخب اراکینِ قومی اسمبلی کی ذمہ داری ہے کہ وہ پارلیمان میں صوبے کے حقوق کا بھرپور مقدمہ لڑیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس سے متعلق حتمی فیصلہ وزیراعظم نے کرنا ہے، جبکہ فاٹا کے انضمام کے وقت سالانہ سو ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کی فراہمی کا وعدہ آج تک پورا نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سابق فاٹا کے عوام بھی پاکستان کے برابر کے شہری ہیں اور ان کی ترقی و خوشحالی ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔انہوں نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے ون ونڈو آپریشن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا تیل، گیس، معدنیات، آبی وسائل اور سیاحت سمیت بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے، جن سے مؤثر انداز میں استفادہ کرکے معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا چیمپئنز لیگ کا افتتاح بھی کیا جا رہا ہے اور کھیلوں کے میدان آباد کرنا، نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنا اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔گورنر فیصل کریم کنڈی نے آزاد جموں و کشمیر میں انتخابی امیدواروں پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جو عناصر آئین اور قانون کو تسلیم نہیں کرتے، وہ ریاست اور قومی مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ پرامن، شفاف اور جمہوری انداز میں انتخابی عمل میں حصہ لیں، پارلیمانی سیاست کو فروغ دیں اور قانون سازی کے ذریعے عوام کی خدمت کریں۔انہوں نے مولانا فضل الرحمٰن کے شہداء سے متعلق بیان کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن جیسے مدبر اور سینئر سیاست دان سے ایسے بیان کی توقع نہیں تھی۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم اپنی مسلح افواج اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی ہے۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ جس طرح گلگت بلتستان کے عوام نے پاکستان پیپلز پارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا، اسی طرح آزاد جموں و کشمیر کے عوام بھی پاکستان پیپلز پارٹی کو بھرپور عوامی حمایت دیں گے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ آزاد جموں و کشمیر میں پرامن، آزاد، شفاف اور جمہوری ماحول میں انتخابی مہم چلائیں تاکہ عوام اپنی رائے کا آزادانہ اظہار کر سکیں۔