انشورنس صنعت معیشت میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، حکومت سندھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی: مراد علی شاہ

منگل 21 جولائی 2026 16:53

انشورنس صنعت معیشت میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، حکومت سندھ ہر ممکن ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 جولائی2026ء) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حکومت سندھ انشورنس صنعت کی اہمیت اور معیشت کی ترقی میں اس کے کلیدی کردار سے بخوبی آگاہ ہے اور اس شعبے کی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور انسانی وسائل کی استعداد بڑھانے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔وہ موون پِک ہوٹل کراچی میں انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان (IAP) کے زیر اہتمام منعقدہ فرسٹ آئی اے پی اینڈ پی ایس او اے انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس 2026 کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

اس موقع پر صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن مکیش کمار چاولہ، چیئرمین آئی اے پی شعیب جاوید حسین، محمد ہشام، ملکی و غیر ملکی ماہرین، پینلسٹس اور صنعت سے وابستہ شخصیات بھی موجود تھیں۔

(جاری ہے)

وزیراعلیٰ سندھ نے کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر چیئرمین آئی اے پی شعیب جاوید حسین اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے بین الاقوامی مندوبین کو کراچی آمد پر خوش آمدید کہا۔

انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں ملکی و بین الاقوامی ماہرین کے تجربات اور آرائ سے انشورنس صنعت کو نئی سمت ملے گی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ کسی بھی صنعت کی ترقی کا انحصار مضبوط انسانی وسائل پر ہوتا ہے اور انہیں خوشی ہے کہ نوجوان نسل خصوصاً ایکچوریل اسٹڈیز کے شعبے میں دلچسپی لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ آئی اے پی اور پی ایس او اے کے ساتھ مل کر انشورنس سیکٹر کی استعداد بڑھانے کے لیے مشترکہ اقدامات کا خیرمقدم کرے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ ملک کا واحد صوبہ ہے جہاں تمام رجسٹرڈ گاڑیوں کے لیے موٹر تھرڈ پارٹی انشورنس کو قانونی طور پر لازمی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 23 فروری 2026 کو صوبائی موٹر وہیکل (ترمیمی) ایکٹ نافذ کیا گیا، جس کے تحت حادثے میں جاں بحق ہونے کی صورت میں سات لاکھ روپے جبکہ مستقل معذوری کی صورت میں پانچ لاکھ روپے تک انشورنس لازمی قرار دی گئی ہے، اور انشورنس کمپنی 45 روز کے اندر ادائیگی کی پابند ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ مارچ 2026 سے تمام گاڑیوں کے لیے ڈیجیٹل موٹر تھرڈ پارٹی انشورنس پالیسیاں جاری کی جا چکی ہیں اور اب تک تقریباً دو لاکھ گاڑیاں اس نظام کے تحت رجسٹر ہو چکی ہیں، جبکہ آئندہ برس اس تعداد میں نمایاں اضافے کی توقع ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت سندھ نے کسانوں کے تحفظ کے لیے فصل بیمہ کو سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا ہے، جبکہ سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے ذریعے مختلف انشورنس، فلاحی اور طبی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے یونیورسل ایکسیڈنٹل انشورنس اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ 18 سال یا اس سے زائد عمر کے کسی بھی شہری کی حادثاتی موت کی صورت میں ورثا کو ایک لاکھ روپے دیے جاتے ہیں اور اس اسکیم کے تمام اخراجات حکومت سندھ برداشت کرتی ہے۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے جلال پور کینال منصوبے پر سندھ کے تحفظات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں اٹھایا جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کو ہمیشہ اپنے حصے سے کم پانی ملتا ہے اور ارسا کے طریقہ کار اور ٹیلی میٹری سسٹم پر بھی متعدد بار اعتراضات کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ سندھ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پانی کے معاملے پر ماہرین پر مشتمل ٹاسک فورس قائم کی جائے گی، جو سندھ طاس معاہدے، انڈس واٹر ٹریٹی اور واٹر ایکارڈ کا جائزہ لے کر عملدرآمد میں موجود خامیوں پر سفارشات مرتب کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی آبی جارحیت کے تناظر میں بھی صورتحال کا مکمل جائزہ لیا جا رہا ہے۔گندم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ میں رواں سال 4.9 ملین ٹن ریکارڈ گندم پیدا ہوئی ہے اور ملک میں مجموعی طور پر گندم وافر مقدار میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دو لاکھ ٹن سے زائد گندم برآمد کی ہے اور وفاق سے مطالبہ کیا ہے کہ درآمد کے بجائے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ کاشتکاروں کو نقصان نہ پہنچے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کاشتکاروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور مناسب قیمت پر گندم فلور ملز کو فراہم کرنے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔گمشدہ بچوں کے معاملے پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ متاثرہ والدین کے دکھ اور تکلیف کا حکومت کو مکمل احساس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کو واضح ہدایات جاری کی جا چکی ہیں جبکہ وزیر داخلہ خود اس معاملے کی نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ قانون کو ہاتھ میں نہ لیں، کیونکہ حکومت گمشدہ بچوں کی بازیابی کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت عوامی فلاح، معاشی استحکام، کسانوں کے تحفظ، سرمایہ کاری کے فروغ اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کرے گی۔