پنجاب یونیورسٹی میں مالی نظم و نسق سے آمدن میں تاریخی اضافہ

بدھ 22 جولائی 2026 22:48

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 22 جولائی2026ء) پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے وائٹ پیپر جاری کرنے سے قبل اپنی مالی اور انتظامی کارکردگی پر مبنی گرین پیپر جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی کی قیادت میں مالی نظم و نسق، شفافیت اور گڈ گورننس کے اقدامات کے نتیجے میں یونیورسٹی کی آمدن اور مالی استحکام میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

ترجمان پنجاب یونیورسٹی کے مطابق جامعہ کی مجموعی آمدن 7 ارب 15 کروڑ روپے سے بڑھ کر 12 ارب 56 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ پرائیویٹ ڈگری پروگرام کی بندش اور امیدواروں کی تعداد ایک لاکھ 92 ہزار سے کم ہو کر 35 ہزار رہ جانے کے باوجود آمدن میں تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ترجمان کے مطابق پہلی مرتبہ یونیورسٹی کے بجٹ خسارے میں نمایاں کمی آئی اور خسارہ 2 ارب 86 کروڑ روپے سے کم ہو کر 1 ارب 67 کروڑ روپے رہ گیا۔

(جاری ہے)

کفایت شعاری، شفاف مالیاتی پالیسی اور مؤثر فنانشل کنٹرول کے باعث ذخائر کے استعمال میں بھی واضح کمی آئی۔ 2024ء میں ذخائر سے 4 ارب 19 کروڑ روپے خرچ کیے گئے تھے، جبکہ مالی سال 2025-26ء میں یہ رقم کم ہو کر 2 ارب 57 کروڑ روپے رہ گئی۔ موجودہ انتظامیہ نے 2 ارب 30 کروڑ روپے دوبارہ سرمایہ کاری (ری انویسٹ) بھی کی۔ترجمان نے بتایا کہ بجلی چوری کی روک تھام اور سولر منصوبوں کی بدولت 50 لاکھ یونٹس بجلی کی بچت ہوئی، جس سے یونیورسٹی کو 28 کروڑ 60 لاکھ روپے کا مالی فائدہ حاصل ہوا۔

ون اکاؤنٹ پالیسی کے نفاذ سے پہلی مرتبہ اخراجات میں مکمل شفافیت یقینی بنائی گئی، جبکہ دہائیوں سے پرانے کرایوں پر چلنے والی کینٹینوں اور دکانوں کی نیلامی سے یونیورسٹی کی آمدن میں مزید 16 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا۔بیان کے مطابق گڈ گورننس ماڈل کے تحت وسیع انتظامی اصلاحات نافذ کی گئیں، جن میں ون مین، ون پوسٹ پالیسی کے ذریعے ایک شخص کے پاس متعدد انتظامی عہدے رکھنے کا نظام ختم کیا گیا، جبکہ صدورِ شعبہ جات کی روٹیشن پالیسی پر پہلی مرتبہ بلاامتیاز عملدرآمد کرتے ہوئے تمام اساتذہ کو یکساں قیادت کے مواقع فراہم کیے گئے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ جامعہ کے ہاسٹلز سے غیر قانونی قبضے پہلی مرتبہ مکمل طور پر ختم کیے گئے، جبکہ پنجاب یونیورسٹی کی اربوں روپے مالیت کی زمینوں پر گزشتہ کئی دہائیوں سے قائم قبضے بھی واگزار کرا لیے گئے۔ انتظامیہ کے مطابق یہ اقدامات جامعہ میں شفافیت، مؤثر انتظامی نظام اور مالی استحکام کو فروغ دینے کی پالیسی کا حصہ ہیں۔