sپاکستان کے نامزد سفیر برائے لیبیا کا لاہور چیمبر کا دورہ

پاکستان-لیبیا تجارت میں 1 ارب ڈالر سے زائد تک پہنچنے کی صلاحیت موجود ہی: فہیم الرحمن سہگل لیبیا میں پاکستانی افرادی قوت میں 78 فیصد کمی آ چکی ، اس رجحان کو بدلنے کا وقت ہی: ممتاز حسین

ہفتہ 25 جولائی 2026 18:00

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 25 جولائی2026ء) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے ''پاکستان-لیبیا تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ'' کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا، جس میں پاکستان کے نامزد سفیر برائے لیبیا میجر جنرل (ر) ممتاز حسین نے شرکت کی۔ سیمینار کی صدارت لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے کی۔ اس موقع پر نائب صدر خرم لودھی، ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین ندیم انصاری، رانا شعبان اختر، وقاص اسلم اور فردوس نثار، کنوینر اسٹینڈنگ کمیٹی برائے پاکستان-لیبیا ٹریڈ محمد سمیع، اور چیمبر کے اراکین کمال امجد میاں، عرفان سونی، ملک ریاض اقبال، جاوید اقبال، عماد بٹ، مرتضیٰ ندیم اور حافظ محمد شفیق بھی موجود تھے۔

اپنے استقبالیہ خطاب میں صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے پاکستان اور لیبیا کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مضبوط سیاسی تعلقات کو مضبوط اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ نمایاں تجارتی امکانات کے باوجود دوطرفہ تجارت اپنی حقیقی صلاحیت سے بہت کم ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 2025-26 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے لیبیا سے تقریباً 1.1 ملین امریکی ڈالر مالیت کی درآمدات کیں، جبکہ لیبیا کو برآمدات 13.1 ملین امریکی ڈالر رہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں معیشتوں کے حجم اور ان کی منڈیوں کی تکمیلی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے دوطرفہ تجارت باآسانی 1 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔ فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل، جراحی آلات، پراسیسڈ فوڈ، اسپورٹس گڈز، انجینئرنگ مصنوعات، تعمیراتی سامان اور آئی ٹی سروسز کے شعبوں میں وسیع مواقع موجود ہیں، جبکہ تیل و گیس خدمات میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات بھی ہیں۔

انہوں نے کاروباری برادریوں کے درمیان کاروباری روابط، تجارتی وفود، نمائشوں اور معلومات کے تبادلے کے فروغ کے لیے ایل سی سی آئی کے عزم کا اعادہ کیا۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نامزد سفیر برائے لیبیا میجر جنرل (ر) ممتاز حسین نے کہا کہ ان کی نئی ذمہ داری پاکستان کی خدمت کا ایک مشن ہے، جس کا مقصد کاروباری حلقوں کو ایک ایسی منڈی سے دوبارہ جوڑنا ہے جہاں بے شمار غیر استعمال شدہ مواقع موجود ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ ان کا بنیادی کردار پاکستانی اور لیبیائی فریقین کے درمیان رابطہ کار اور سہولت کار کا ہوگا۔ انہوں نے چیمبر ز کے مابین روابط کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے منظم کاروباری وفود اور ادارہ جاتی تعاون کی حوصلہ افزائی کی تاکہ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنایا جا سکے۔ نامزد سفیر نے شرکاء کو بتایا کہ عدم استحکام کے تاثر کے باوجود لیبیا میں نمایاں مواقع موجود ہیں۔

انہوں نے قومی مفاہمت کی جانب مثبت پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 70 لاکھ سے زائد آبادی، مناسب قوتِ خرید اور تعمیرِ نو کی ضروریات رکھنے والی یہ منڈی پاکستانی کاروباروں کے لیے امید افزا امکانات رکھتی ہے۔ میجر جنرل (ر) ممتاز حسین نے بتایا کہ پاکستان پہلے ہی دفاعی تعاون کے ذریعے لیبیا میں مضبوط موجودگی رکھتا ہے اور مختلف شعبوں میں اقتصادی تعاون بڑھانے کے حوالے سے پُرامید ہے۔

انہوں نے یہ خوشخبری بھی دی کہ لکی سیمنٹ لیبیا میں سیمنٹ پلانٹ کے قیام کے آخری مراحل میں ہے، جسے انہوں نے لیبیا میں پاکستانی سرمایہ کاری کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ لیبیا میں پاکستانی افرادی قوت کی تعداد، جو ماضی میں تقریباً 80 ہزار سے 90 ہزار تھی، اب کم ہو کر تقریباً 15 ہزار سے 20 ہزار رہ گئی ہے۔ انہوں نے اس رجحان کو تبدیل کرنے اور لیبیائی مارکیٹ میں پاکستانی افرادی قوت کی شمولیت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

نامزد سفیر نے اپنے دورِ تعیناتی کے لیے بلند اہداف کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ دو سال میں لیبیا کو پاکستان کی برآمدات دوگنا کرنے اور لیبیا میں پاکستانی کارکنوں کی تعداد تقریباً 20 ہزار سے بڑھا کر 40 ہزار تک لے جانے کا ہدف رکھتے ہیں۔ انہوں نے کاروباری برادری کو یقین دلایا کہ وہ بینکاری ذرائع، منڈی تک رسائی اور ویزا سے متعلق مسائل سمیت مختلف چیلنجز کے حل کے لیے فعال کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے پاکستانی کاروباری شخصیات کو ترغیب دی کہ وہ حریف ممالک کے ابھرتی ہوئی مارکیٹ میں حصہ حاصل کرنے سے پہلے لیبیا میں موجود مواقع کا جائزہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ تجارت اور کاروبار تعاون اور شراکت داری کے ذریعے ترقی کرتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ لیبیا میں پاکستانی سفارت خانہ حقیقی کاروباری منصوبوں کی حمایت اور تجارتی روابط کے فروغ کے لیے مکمل طور پر دستیاب رہے گا۔