سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی کا اجلاس، قومی آبادی ایکشن پلان اور این ایچ اے منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا

پیر 27 جولائی 2026 20:39

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 27 جولائی2026ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر قرۃ العین مری کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ کمیٹی نے قومی ایکشن پلان برائے آبادی (2021-2026) پر عمل درآمد اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔

وزارت قومی صحت، ضابطہ و رابطہ کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ قومی ایکشن پلان برائے آبادی منصوبے کی منظوری مئی 2021ء میں ڈپارٹمنٹل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (ڈی ڈی ڈبلیو پی) نے ایک ارب 99 کروڑ 66 لاکھ 83 ہزار روپے کی لاگت سے دی تھی۔ منصوبے میں آزاد جموں و کشمیر کے 10 اضلاع، گلگت بلتستان کے 14 اضلاع اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری شامل ہیں۔

(جاری ہے)

کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ 1 ارب 67 کروڑ 96 لاکھ روپے مانع حمل ادویات و اشیاء کی خریداری کے لیے مختص کیے گئے، جو مکمل طور پر درآمد کی جا رہی ہیں۔ مالی سال 2026-27 کے لیے 25 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جن میں میڈیا مہم اور مانع حمل اشیاء کی خریداری شامل ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ آبادی سے متعلق دستیاب تازہ ترین اعداد و شمار پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے 2017-18 (پی ڈی ایچ ایس) پر مبنی ہیں، حالانکہ یہ سروے ہر پانچ سال بعد ہونا چاہیے تھا۔

پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (پی بی ایس) اس وقت نئے سروے پر کام کر رہا ہے تاکہ 2025-26 تک کے آبادی اور صحت کے اشاریوں کو اپ ڈیٹ کیا جا سکے۔چیئرپرسن سینیٹر قرۃ العین مری نے بروقت سروے نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تازہ ترین آبادیاتی اعداد و شمار کی عدم دستیابی شواہد پر مبنی منصوبہ بندی، موثر پالیسی سازی اور وسائل کی بہتر تقسیم میں رکاوٹ بنتی ہے۔

انہوں نے وزارت قومی صحت کی بریفنگ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں منصوبے کے تمام پہلوئوں بشمول مانع حمل اشیاء کی خریداری، تقسیم، استعمال، عمل درآمد میں درپیش مشکلات اور دیگر انتظامی امور پر جامع بریفنگ پیش کی جائے۔کمیٹی نے کیش ڈویلپمنٹ لون (سی ڈی ایل) کے تحت مالی معاونت سے جاری این ایچ اے منصوبوں اور اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے ان فیصلوں کا بھی جائزہ لیا جو پی ایس ڈی پی منصوبوں کی تنظیم نو سے متعلق ہیں۔

این ایچ اے نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت مواصلات اور وزارت خزانہ کے اشتراک سے قرضوں کی تنظیم نو کے لیے جامع تجویز تیار کی جا رہی ہے۔چیئرپرسن نے این ایچ اے کے پی ایس ڈی پی منصوبوں کی درجہ بندی اور علیحدگی کے عمل میں تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کام بہت پہلے مکمل ہو جانا چاہیے تھا۔ این ایچ اے حکام نے یقین دہانی کرائی کہ جائزہ کا عمل جاری ہے اور جلد مکمل کر لیا جائے گا۔

اجلاس میں موٹروے ایم-6 منصوبے کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا جس کے مطابق منصوبے کا سنگ بنیاد رواں سال کے آخر تک رکھے جانے کا امکان ہے۔این-5 قومی شاہراہ کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) کی مالی معاونت سے مختلف حصوں کی بحالی کا کام جاری ہے۔ این ایچ اے حکام نے بتایا کہ شاہراہوں کی حالت جانچنے کے لیے ہر سال سروے کیا جاتا ہے تاکہ خراب، درمیانی اور بہتر حالت والی سڑکوں کی نشاندہی کرکے بروقت مرمت اور بحالی ممکن بنائی جا سکے۔

کمیٹی نے این-55 منصوبے کے غیر ملکی فنڈنگ والے حصے کا بھی جائزہ لیا جو تین مرحلوں پر مشتمل ہے۔ بتایا گیا کہ ٹرانچ-II کے لاٹ-I (شکارپور تا کندھ کوٹ) پر 34 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ منصوبے کی تکمیل میں صرف آٹھ ماہ باقی ہیں۔ کمیٹی نے مقررہ مدت کے اندر کام مکمل کرنے پر زور دیا۔مزید بتایا گیا کہ لاٹ-II (کندھ کوٹ تا کشمور) پر 22 فیصد پیش رفت ہوئی ہے اور اس کے مقررہ وقت پر مکمل ہونے کا امکان کم ہے تاہم لاٹ-III اور لاٹ-IV کی تکمیل شیڈول کے مطابق متوقع ہے۔

چیئرپرسن سینیٹر قرۃ العین مری نے کہا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو اولین ترجیح دی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ جب تک زیر تکمیل منصوبے بڑی حد تک مکمل نہ ہو جائیں، نئے ترقیاتی منصوبے شروع نہ کیے جائیں تاکہ محدود عوامی وسائل کا موثر اور دانشمندانہ استعمال یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں سینیٹر شہادت اعوان، سعدیہ عباسی، منظور احمد اور ڈاکٹر افنان اللہ خان نے شرکت کی جبکہ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات بھی اجلاس میں موجود تھے۔