پاک چین فارماسیوٹیکل معاہدے پاکستان میں فارماسیوٹیکل انقلاب کی راہ ہموار کریں گے،میاں زاہد حسین

منگل 28 جولائی 2026 21:55

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 جولائی2026ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم و آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان فارماسیوٹیکل اور صحت کے شعبے میں ہونے والے اہم معاہدوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیش رفت درآمدی انحصار کم کرنے، قومی صحت کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور فارماسیوٹیکل شعبے کو ایک نئی برآمدی صنعت بنانے کا اہم موقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان چائنا فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران 629.5 ملین ڈالر مالیت کے 22 تجارتی معاہدوں اور تقریبا 800 ملین ڈالر مالیت کی 84 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

(جاری ہے)

کانفرنس میں 140 چینی کمپنیوں کے 240 نمائندوں اور 210 پاکستانی کمپنیوں کے 430 نمائندوں نے شرکت کی، جبکہ دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے درمیان 340 ملاقاتیں بھی ہوئیں۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ ان معاہدوں میں مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کے آٹھ منصوبے، طبی آلات کی پروڈکشن کے آٹھ منصوبے، ادویات کے بنیادی خام مال یعنی ایکٹو فارماسیوٹیکل انگریڈینٹس کے دو منصوبے، کلینیکل ٹرائلز کے دو منصوبے اور جنیرک ادویات اور انجیکشن کی تیاری کے دو منصوبے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان معاہدوں کو واضح سرمایہ کاری شیڈول، مقامی روزگار کے اہداف اور ٹیکنالوجی کی لازمی منتقلی کے ذریعے جلد از جلد فعال صنعتی منصوبوں میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان اپنی ضرورت کی 85 فیصد تیار ادویات مقامی سطح پر پیدا کرتا ہے، لیکن ان ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والا 95 فیصد خام مال درآمد کیا جاتا ہے۔ یہ انحصار ادویات کی قیمتوں اور دستیابی کو روپے کی قدر میں کمی، بین الاقوامی مال برداری کے اخراجات اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادویات کے خام مال کی مقامی پیداوار سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوگی بلکہ ادویات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور مریضوں پر مالی بوجھ کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان قومی حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کے تحت استعمال ہونے والی 13 ویکسینز درآمد کرتا ہے، جبکہ 2030 تک درآمدی ویکسین کی لاگت 1.2 ارب ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ قومی پالیسی برائے مقامی ویکسین پیداوار، چینی سرمایہ کاری اور بائیوٹیکنالوجی کی مہارت کے امتزاج سے پاکستان ویکسین، حیاتیاتی مصنوعات اور کولڈ چین ٹیکنالوجی میں مقامی صلاحیت پیدا کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مالی سال 25-2024 کے دوران پاکستان کی فارماسیوٹیکل برآمدات 34 فیصد اضافے کے ساتھ ریکارڈ 457 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں اور پاکستانی ادویات 80 سے زیادہ ممالک تک پہنچیں۔ تاہم یہ برآمدات ملک کی پیداواری صلاحیت، تربیت یافتہ افرادی قوت اور وسطی ایشیا، مشرق وسطی اور افریقہ کی منڈیوں تک رسائی کے مقابلے میں اب بھی بہت کم ہیں۔میاں زاہد حسین نے نشاندہی کی کہ جولائی تا مارچ مالی سال 26-2025 کے دوران فارماسیوٹیکل پیداوار میں 5.1 فیصد کمی ہوئی، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 2.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

نئی سرمایہ کاری کو جدید مشینری، تحقیق و ترقی، عالمی سرٹیفکیشن اور برآمدی پیداوار کے ذریعے اس منفی رجحان کو تبدیل کرنا چاہیے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، وزارت قومی صحت، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی، بورڈ آف انویسٹمنٹ اور چین میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے ان معاہدوں کو ممکن بنانے کی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے ڈریپ کے تقریبا 85 فیصد ریگولیٹری عمل کو ڈیجیٹل بنانے اور طبی آلات کی منظوری کا دورانیہ کم کرکے تقریبا 20 دن کرنے کا بھی خیرمقدم کیا۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ تجارتی معاہدوں پر دستخط صرف پہلا قدم ہیں۔ تیز رفتار عمل درامد کے لیے ایک مشترکہ عمل درآمد سیل قائم کیا جانا چاہیے جو موصول ہونے والی سرمایہ کاری، قائم ہونے والے کارخانوں، پیدا ہونے والے روزگار، درآمدی متبادل اور برآمدی آمدن سے متعلق سہ ماہی پیش رفت رپورٹ جاری کرے۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی کو مفاہمتی یادداشتوں کی تعداد کے بجائے حقیقی پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی، زرمبادلہ کی بچت اور برآمدی آمدن کی بنیاد پر جانچا جانا چاہیے۔