بھارتی انتظامیہ نے میر واعظ عمر فاروق کو گھر میں نظر بندکر کے نماز جمعہ کی ادائیگی سے روک دیا،بھارت نے کشمیریوں کو تمام بنیادی حقوق سے محروم کررکھا ہے، حریت کانفرنس

جمعہ 7 اگست 2026 16:55

سری نگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 07 اگست2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر میں نئی دلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سہنا کے ماتحت انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق کو آج سرینگر میں گھر میں نظر بند کر کے شہر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے سے روک دیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق میر واعظ عمر فاروق کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہاگیا کہ بھارتی حکام نے میر واعظ کو آج ایک مرتبہ پھر سری نگر میں ان کی رہائش گاہ تک محدود کردیا اور انہیں نماز جمعہ جیسے اہم دینی فریضے کی ادائیگی کیلئے جامع مسجد جانے سے روک دیا ۔

بیان میں انتظامیہ کے اقدام کو مذہبی معاملات میں صریحا ً مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ گرفتاریوں اور پابندیوں کے ذریعے لوگوں کی آوازوں کو ہرگز خاموش نہیں کیا جاسکتا ۔

(جاری ہے)

کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارت نے اپنے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر کے کشمیریوں کو ان کے تمام بنیادی حقوق سے محروم کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بے لگام بھارتی فورسز اہلکاروں نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور جبر و استبداد کے دیگر ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کا جینا حرام کرکھاہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی ہندو توا بھارتی حکومت نے فورسز اور تحقیقاتی ایجنسیوں کو نہتے کشمیریوں کو تختہ مشق بنانے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے ،جب کوئی بھارتی جبر کے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش کرتا ہے ، اسے کالے قوانین کے تحت سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتاہے۔

ترجما ن نے میر واعظ عمر فاروق کو گھر میں نظر بند کرنے اور نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر میں بڑھتے ہوئے بھارتی مظالم کو رکوانے اور تنازعہ کشمیرکو عالمی ادارے کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔

میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں قائم ”متحدہ مجلسِ علما“نے جموں وکشمیر میں آن لائن ڈیلیوری پلیٹ فارم” بلنک اٹ“ پر خنزیر کے گوشت سے تیار کردہ مصنوعات کی فروخت کے حوالے سے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔”مجلس علما“ نے ایک بیان میں کہا کہ کشمیر میں کاروبار کرنے والی تمام کمپنیوں اور تجارتی اداروں پر لازم ہے کہ وہ خطے کی مذہبی، تہذیبی اور ثقافتی حساسیت کا مکمل احترام اور اپنی کاروباری سرگرمیوں میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔

ضلع رام بن کے علاقے بلاوٹ میں ہندو توا کارکنوں نے تین مسلم نوجوانوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا ہے ،جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔17کے قریب نام نہاد گائے رکشکوں نے مسلم نوجوانوں پر لاٹھیاں برسائیں اور انکے موبائل فون بھی چھین لیے ۔ پولیس نے شکایت کے باوجود تاحال کسی مجرم کو گرفتار نہیں کیا۔