نوشہرہ ،امن و امان صورتحال پر آل پارٹیز کا گرینڈ جرگہ، حکومت کو اصلاح احوال کیلئے ایک ماہ کا الٹی میٹم

جمعہ 7 اگست 2026 20:10

نوشہرہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 اگست2026ء) ضلع نوشہرہ میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال، قبضہ مافیا، منشیات فروشی، غیر قانونی کان کنی اور قانون کی کمزور عملداری کے خلاف نوشہرہ پریس کلب میں صوبائی امن جرگہ کے زیر اہتمام آل پارٹیز گرینڈ جرگہ منعقد ہوا، جس میں حکومت کو اصلاحِ احوال کیلئے ایک ماہ کا الٹی میٹم دیتے ہوئے خبردار کیا گیا کہ اگر اس دوران موثر اقدامات نہ کیے گئے تو شوبرا چوک نوشہرہ میں آل پارٹیز دھرنا دیا جائے گا۔

جرگے کی صدارت چیئرمین صوبائی امن جرگہ سید کمال شاہ باچانے کی، جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماں، قبائلی عمائدین، وکلا، صحافیوں، سماجی شخصیات اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔اپنے خطاب میں سید کمال شاہ باچا نے کہا کہ ضلع نوشہرہ خصوصا نظام پور میں قبضہ مافیا، منشیات فروشوں، اسٹریٹ کرائم، غیر قانونی اسلحہ اور غیر قانونی کان کنی میں ملوث عناصر کے خلاف ریاستی عملداری کمزور پڑ چکی ہے، جس سے عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے مطالبہ کیا کہ قانون کی حکمرانی ہر صورت یقینی بنائی جائے اور ایک سال سے تعینات ایس ایچ اوز کو فوری طور پر ضلع سے تبدیل کیا جائے۔جرگے کے متفقہ اعلامئے میں مطالبہ کیا گیا کہ غیر قانونی کان کنی، قبضہ مافیا، جرائم پیشہ عناصر اور شدت پسند گروہوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، معدنی وسائل سے متعلق تمام معاہدوں اور آمدنی کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں اور مقامی آبادی کو رائلٹی، روزگار اور دیگر قانونی حقوق فراہم کیے جائیں۔

جرگے نے حکومت خیبرپختونخوا سے نظام پور کے معاملات کی اعلی سطحی تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے موثر پالیسی مرتب کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔اختتام پر اعلان کیا گیا کہ اگر ایک ماہ میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو تمام سیاسی جماعتیں، وکلا، صحافی، عمائدین اور سول سوسائٹی مشترکہ طور پر شوبرا چوک نوشہرہ میں احتجاجی دھرنا دیں گے۔ اس موقع پر معاملات کی نگرانی کیلئے 11رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔