Live Updates

مطالبات کی منظوری تک سڑکوں سے نہیں اٹھیں گے، حافظ نعیم الرحمن

پیر 17 اگست 2026 21:44

مطالبات کی منظوری تک سڑکوں سے نہیں اٹھیں گے، حافظ نعیم الرحمن
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 17 اگست2026ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکمرانوں کو دوٹوک پیغام دیا ہے کہ پٹرولیم لیوی کے خاتمہ سمیت دیگر مطالبات منظور ہونے تک سڑکوں سے نہیں اٹھیں گے۔ لاہور ، کراچی ، پشاور کے دھرنے پچیس کروڑ عوام کی نمائندگی کررہے ہیں۔ حکمران آئی ایم ایف کے غلام بن گئے، نظام کی ناکامی کا اعتراف ہورہا ہے ، افسر شاہی خود کو حاکم سمجھنا بند کرے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنا کے مقام پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی، قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر جنجوعہ ، ڈپٹی سیکریٹری رُسل خان بابر ، امیر لاہور ضیا الدین انصاری، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری ، سیکریٹری بابر رشید اور سیکرٹری اطلاعات شکیل ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔

(جاری ہے)

پٹرولیم لیوی، مہنگی بجلی اور آئی پی پیز کے معاہدوں کے خلاف جماعت اسلامی کا احتجاج دوسرے روز میں داخل ہوگیا ہے۔ شدید گرمی کے باوجود لاہور کے چئرنگ کراس پر ہزاروں افراد کا دھرنا بدستور جاری ہے۔ شرکا نے رات مال روڈ پر گزاری اور حکومت کے خلاف مسلسل نعرے لگائے گئے۔ مال روڈ پر قومی و جماعت اسلامی کے پرچم لہراتے رہے ۔شرکاء نے ا علان کیا ہے کہ پٹرول 225 روپے فی لٹر ، پٹرولیم لیوی کا خاتمہ اور بجلی سستی ہونے تک دھرنا ختم نہیں ہوگا۔

اسی دوران کراچی اور پشاور کے گورنر ہاؤسز کے باہر بھی جماعت اسلامی کے دھرنے جاری ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کا مقدمہ لڑنے کے لیے سڑکوں پر نکلی ہے اور یہ دھرنا صرف جماعت اسلامی کا نہیں بلکہ ڈاکٹرز، وکلا، تاجروں، کسانوں سمیت تمام طبقات اور پچیس کروڑ عوام کا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں گھروں سے نکلیں اور احتجاج میں شریک ہوں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت ایک طرف عوام پر پٹرول بم گرا رہی ہے اور دوسری جانب بجلی مہنگی کرکے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے۔ عالمی جنگ کا بہانہ بنا کر پٹرول کی قیمتیں بڑھائی گئیں اور اب حکومت ہر اضافے کو آئی ایم ایف سے جوڑ دیتی ہے۔ حکمران آئی ایم ایف کے غلام بن چکے ہیں۔آئی پی پیز کے معاہدوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے دور میں آئی پی پیز کا سلسلہ شروع ہوا ، بعد میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے ان معاہدوں کو آگے بڑھایا۔

بعض کارخانوں کی پیداواری صلاحیت بھی بڑھا چڑھا کر ظاہر کی گئی، حتیٰ کہ 100 میگاواٹ کے پلانٹ کو 200 میگاواٹ ظاہر کیا گیا۔ گنے کے بھوسے سے چلنے والے کارخانوں میں بھی بے ضابطگیاں ہوئیں ، آئی پی پیز کی کیپسٹی پیمنٹس (Capacity Payment ) کا بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔گزشتہ سال کی ایک رپورٹ کے مطابق بعض صورتوں میں بجلی پیدا کرنے کی لاگت کم اور اس کی ادائیگی زیادہ رہی۔

200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین بھی پریشان ہیں جبکہ زیادہ یونٹس استعمال کرنے والوں پر مزید بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔پٹرولیم لیوی پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت اپنے مقررہ ہدف سے بھی زیادہ رقم وصول کرچکی ہے اور اب تک عوام سے 8 ہزار ارب روپے سے زائد اکٹھے کیے جاچکے ہیں۔اربوں روپے وصول کرنے کے باوجود ملکی ریفائنریوں (Refineries ) کو اپ گریڈ (Upgrade ) نہیں کیا گیا اور پٹرول کے ذخیرے کے لیے مؤثر نظام بھی نہیں بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پٹرول کی ایکس ریفائنری (Ex-Refinery ) قیمت تقریباً 195 روپے فی لیٹر ہے، غریب صارف سے مختلف ٹیکسوں اور لیوی کی صورت میں فی لیٹر تقریباً 130 روپے اضافی وصول کیے جا رہے ہیں۔ موٹرسائیکل سوار، عوامی ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے اور متوسط طبقہ سب بھاری ٹیکسوں کی زد میں ہیں۔ایف بی آر کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ادارے میں سالانہ 1,300 ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے، مگر اس کی خامیاں دور کرنے کے بجائے حکومت عوام پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے۔

جاگیرداروں اور وڈیروں نے مجموعی طور پر صرف 12 ارب روپے ٹیکس ادا کیا جبکہ تنخواہ دار طبقے سے سالانہ 700 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا گیا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 79 برس سے ایک مخصوص طبقہ مختلف حکومتوں کی شکل میں عوام پر مسلط ہے، اب حکمران خود نظام کی ناکامی کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے بیوروکریسی کو نوآبادیاتی نظام کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ افسر شاہی عوام کو غلام اور خود کو حاکم سمجھتی ہیں۔

حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کے پیغام پر انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی اسلام آباد جاکر کسی کمیٹی سے بات نہیں کرے گی۔ جس نے بات کرنی ہے، وہ یہاں آئے، ہم اسے عزت دیں گے اور مذاکرات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پرامن احتجاج کر رہی ہے اور یہ اس کا آئینی حق ہے۔ پٹرولیم لیوی کے خلاف عدالت سے بھی رجوع کیا جاچکا ہے، تاہم افسوس ہے کہ کیس کی سماعت آگے نہیں بڑھ رہی۔حافظ نعیم الرحمن نے دوٹوک اعلان کیا کہ مطالبات منظور نہ ہونے تک دھرنے جاری رہیں گے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرول 225 روپے فی لیٹر کیا جائے اور پٹرولیم لیوی ختم کی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عوام اب لیوی کے نام پر جگا اور بھتہ ٹیکس قبول نہیں کریں گے۔
Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات