لاہور، ذہنی معذور بچی سے مبینہ زیادتی کیس، اے ایس آئی کے خلاف سزائے موت کی دفعات شامل

تفتیش اور فرانزک رپورٹ کے مکمل ہونے پر مزید حقائق سامنے آئیں گے ‘شامل کی گئی دفعات انتہائی سنگین ہیں. پولیس حکام و قانونی ماہرین

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل 11 اگست 2026 15:28

لاہور، ذہنی معذور بچی سے مبینہ زیادتی کیس، اے ایس آئی کے خلاف سزائے ..
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔11 اگست ۔2026 ) لاہور کے تھانہ غازی آباد میں ایک ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی کے کیس میں دو انتہائی سنگین دفعات کا اضافہ کر دیا گیا پولیس حکام کے مطابق، اب اس مقدمے میں اغوا کی دفعہ 365 بی اور زیادتی کی دفعہ 376 سیکشن 4 شامل کر لی گئی ہیں قانونی ماہرین کے مطابق، دفعہ 376 سیکشن 4 کے تحت جرم ثابت ہونے کی صورت میں مجرم کو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے.

(جاری ہے)

اس سے قبل مقدمے میں صرف عام زیادتی کی دفعہ 376 لگائی گئی تھی، تاہم اب کیس میں تفتیش کا عمل تیزی سے جاری ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش اور فرانزک رپورٹ کے مکمل ہونے پر مزید حقائق سامنے آئیں گے اس ہولناک واقعے پر ڈی آئی جی آپریشنز اور ڈی آئی جی انوسٹی گیشن نے انتہائی سخت ایکشن لیتے ہوئے ایس ایچ او اور فرنٹ ڈیسک کے عملے سمیت پورے تھانے کے 78 اہلکاروں اور افسران کو معطل کر دیا تھا، جبکہ ناقص نگرانی پر انوسٹی گیشن انچارج کو بھی معطلی کا سامنا کرنا پڑا.

مبینہ زیادتی کے مرکزی ملزم اے ایس آئی عمران کو جس کا تعلق انوسٹی گیشن ونگ سے ہے، مقدمہ درج کر کے فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا تھا دوسری جانب، غازی آباد پولیس اسٹیشن میں درج اس مقدمے سے متعلق ابتدائی میڈیکل رپورٹ بھی سامنے آئی ہے، جس کے مطابق لڑکی کے ساتھ زیادتی کے واضح شواہد نہیں ملے، تاہم حتمی حقائق کا تعین تفصیلی فرانزک رپورٹس کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا.

متاثرہ لڑکی کی والدہ نے دو اگست کو پولیس کو دی گئی اپنی درخواست میں واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی بیٹی دوپہر ایک بجے گھر سے نکلی اور واپس نہیں آئی انہوں نے بتایا کہ جب ہم سب گھر والے اسے ڈھونڈ رہے تھے، تو فیصل یوسف نامی ایک شہری نے ہمیں بتایا کہ آپ کی بیٹی کو سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک پولیس اہلکار موٹرسائیکل پر بٹھا کر لے گیا ہے.

لڑکی کی والدہ کا کہنا ہے کہ جب وہ تھانے پہنچیں تو گھر سے فون آیا کہ لڑکی واپس آ گئی ہے، اور جب وہ گھر واپس گئیں تو ان کی بیٹی رو رہی تھی والدہ کے مطابق، ان کی بیٹی نے بتایا کہ عمران اے ایس آئی نے اسے بازار سے زبردستی اٹھایا، تھانے کے کمرہ نمبر چار میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا اور رات نو بجے رکشے پر بٹھا کر واپس بھیجا. دوسری طرف، مبینہ زیادتی کے الزام میں گرفتار پولیس اہلکار عمران کا بیان بھی سامنے آ گیا ہے، جس میں انہوں نے خود پر لگے الزامات کی تردید کی ہے ملزم عمران نے اپنے دفاع میں موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ لڑکی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ علاقے میں بھیک مانگتی تھی اور میں نے لڑکی اور اس کے اہل خانہ کو متعدد بار بھیک مانگنے سے روکا تھا.

انہوں نے کہا کہ جب وہ بھیک مانگنے سے باز نہ آئی، تو میں صرف لڑکی کو ڈرانے اور دھمکانے کے لیے پولیس اسٹیشن لے کر آیا تھا، زیادتی کا الزام سچ نہیں ہے پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کے تمام پہلوﺅں کو سامنے رکھ کر غیر جانبدارانہ تفتیش کی جا رہی ہے. 

متعلقہ عنوان :