اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 11 اگست 2026ء) ترکی، پاکستان اور سعودی عرب نے گزشتہ جمعے کے روز ایک تاریخی اور مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس کا مقصد ''کسی بھی جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مزید مؤثر بنانا‘‘ بتایا گیا۔
سنی اکثریت والے ان تین مسلم ممالک کے اس معاہدے کو ''مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘‘ کا نام دیا گیا ہے، جس کا مقصد خطے میں غیر یقینی صورتحال اور ایران جنگ سے پیدا ہونے والے خطرات کے تناظر میں باہمی تعاون کو بڑھانا ہے۔
اس معاہدے پر مکہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے دستخط کیے۔
اس اتحاد کو نیٹو طرز کا معاہدہ قرار دیا گیا ہے۔
(جاری ہے)
جمعے کے روز پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ معاہدے کے تحت کسی بھی ایک رکن ملک پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تاہم ماہرین اور تجزیہ کاروں نے فوری طور پر واضح کیا کہ کم از کم ابتدائی مراحل میں یہ معاہدہ اس طرح عمل میں نہیں آئے گا۔
مثال کے طور پر ہفتے کے روز یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر ایک بار پھر حملہ کیا۔ حوثی گروہ سعودی عرب کو اپنا دشمن سمجھتا ہے اور ایران کا اتحادی بھی ہے۔ ایران نے بھی جنگ کے آغاز کے بعد سعودی عرب کو نشانہ بنایا کیونکہ ایران سعودی عرب کو امریکہ کا اتحادی سمجھتا ہے۔
مگر ہفتے کے روز حوثی باغیوں کے حملے کے باوجود نہ ترکی اور نہ ہی پاکستان نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے کوئی اقدام کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان کی طرف سے ایران پر حملہ کرنے کا امکان بھی نہیں۔ درحقیقت پاکستان اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔مکہ معاہدہ: ایک 'لچکدار دفاعی معاہدہ‘
واشنگٹن
میں قائم تھنک ٹینک 'گلف انٹرنیشنل فورم‘ (جی آئی ایف) کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر دانیا ظافر نے گزشتہ ہفتے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یہ انتظام دراصل ایک قسم کی ڈیٹرینس اور ''لچکدار دفاعی معاہدے‘‘ کے طور پر کیا گیا ہے۔ظافر نے وضاحت کی، ''اگر آپ اس معاہدے کے فریقین کو دیکھیں تو سعودی عرب اس تنازعے کے مرکز میں ہے۔ لیکن ترکی اور پاکستان، دونوں کے ایران اور امریکہ سے تعلقات ہیں۔ تو میرے خیال میں یہ سعودی عرب کے لیے ڈیٹرینس کی ایک اضافی تہہ ہے۔ میرے خیال میں سعودی عرب ابھرتے ہوئے علاقائی خطرات کے پیش نظر کئی درجوں پر مشتمل حکمت عملی اپنا رہا ہے۔
‘‘واشنگٹن
کی مڈل ایسٹ پالیسی کونسل کے سینئر فیلو کامران بخاری نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یہ نیا اتحاد مختلف مراحل میں آگے بڑھے گا اور اس کا فوری مقصد ''خطے میں استحکام‘‘ لانا ہے۔تکنیکی تبادلہ اور سرمایہ کاری
ماہرین کے مطابق طویل المدتی اہداف باقاعدہ جنگ کے بجائے دفاعی تعاون سے متعلق ہوں گے۔
کنگز کالج لندن کے سکیورٹی امور کے لیکچرر آندریاس کریگ نے گزشتہ ہفتے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ''یہ تینوں ممالک ایک دوسرے کی غیر معمولی حد تک تائید و تکمیل کرتے ہیں۔
‘‘کریگ نے وضاحت کی کہ سعودی عرب کے پاس تیل کی دولت ہے مگر دفاعی ٹیکنالوجی محدود ہے اور وہ ابھی تک امریکہ پر انحصار کرتا رہا ہے۔ دوسری جانب ترکی اور پاکستان کو سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اور ان کی مسلح افواج مضبوط ہیں، جبکہ ترکی کے پاس جدید دفاعی صنعتی شعبہ بھی موجود ہے۔ تینوں ممالک میں سے صرف پاکستان جوہری اسلحہ رکھتا ہے۔
کریگ نے کہا، ''ترکی کے پاس ٹیکنالوجی اور پیداواری صلاحیت ہے مگر اسے منڈیوں اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے پاس افرادی قوت، فوجی ادارے اور جوہری صلاحیت موجود ہے، مگر اسے مالی وسائل اور صنعتی استعداد کی ضرورت ہے۔‘‘
مکہ معاہدے کا ہدف کون ہے؟
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک ترک عہدیدار نے کہا کہ یہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور خطے کے کسی بھی ملک کے لیے اس میں شمولیت کا دروازہ کھلا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ مصر اس معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے، تاہم اسے اپنے دیگر اتحادیوں، بشمول متحدہ عرب امارات کا بھی خیال رکھنا ہو گا۔ امارات نے تاحال اس معاہدے میں شمولیت اختیار نہیں کی اور اس وقت سعودی عرب اور امارات کے تعلقات میں کچھ کشیدگی پائی جاتی ہے۔اس ترک عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ یہ معاہدہ دستخط کنندگان کے درمیان موجود سابقہ دو طرفہ یا کثیر الفریقی معاہدوں کی جگہ نہیں لیتا اور نہ ہی یہ کسی مخصوص فریق یا خطرے کو نشانہ بناتا ہے۔
اس کے باوجود اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ اس معاہدے کو بنیادی طور پر دو ممالک ایران اور اسرائیل کے خلاف ایک ڈیٹرینس کے طور پر سمجھا جا رہا ہے۔
دوحہ میں قائم مڈل ایسٹ کونسل آن گلوبل افیئرز کے ڈائریکٹر خالد الجابر نے قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے لیے اتوار کے روز اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ مکہ معاہدے کا مقصد کسی فوجی فتح کا حصول نہیں بلکہ بالادستی کو روکنا ہے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ امریکی اثر و رسوخ میں کمی کی صورت میں خطہ ایسے نظام کے تحت آ سکتا ہے، جس کے قواعد صرف دو فریق یعنی اسرائیل اور ایران طے کریں۔ ان کے مطابق مکہ معاہدے کو قوت کے ایک تیسرے مرکز کی تشکیل کی ابتدائی کوشش سمجھا جانا چاہیے۔ ایسا بلاک، جسے کسی بھی طاقت سے جنگ کرنے کی ضرورت نہیں، مگر جو خطے پر کسی ایک فریق کی مکمل بالادستی کو روکنے کے لیے کافی وزن رکھتا ہو۔
اسرائیل اس معاہدے کے بارے میں کیا سوچتا ہے؟
معاہدے پر دستخط کرنے والے دو ممالک پاکستان اور سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے اور ان کے اسرائیل کے ساتھ کوئی باضابطہ سفارتی تعلقات بھی نہیں ہیں، اگرچہ سعودی عرب کے معاملے میں کچھ خفیہ روابط کا امکان موجود ہے۔ ترکی اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے مگر غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں کی وجہ سے، جنہیں ترکی نسل کشی قرار دیتا ہے، دونوں ممالک کے روابط میں اس وقت کشیدگی پائی جاتی ہے۔
ترک صدر ایردوآن نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ شام اور لبنان میں اسرائیل کی کارروائیاں بھی ترکی کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
یروشلم انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجی اینڈ سکیورٹی کی ریسرچ فیلو اوشریت بیروادکر نے ہفتے کے روز اسرائیلی نشریاتی ادارے اسرائیل ہایوم کے لیے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ مکہ معاہدے کی پیش رفت اسرائیل کے لیے سنگین مسائل پیدا کرتی ہے، ریاض کے ساتھ سفارتی تعلقات کے قیام کے امکانات کو مزید دور کر دیتی ہے اور 'نئے مشرق وسطیٰ‘ کے تصور کو محدود کر دیتی ہے۔
بیروادکر کا یہ بھی خیال ہے کہ یہ نیا سہ فریقی اتحاد ترکی اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت اور کشیدگی میں مزید اضافہ کرے گا۔
ایران میں ملا جلا ردعمل
تل ابیب یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز نے اس بارے میں ایرانی ردعمل کا جائزہ لیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اس معاہدے پر کوئی خاص ناراضی ظاہر کرتے دکھائی نہیں دیے۔
انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا، ''جب مسلمان متحد ہوتے ہیں تو ہم بدنیت بیرونی عناصر کے ہر چیلنج کا براہ راست مقابلہ کر سکتے ہیں۔‘‘مبصرین نے اسے مثبت پیش رفت قرار دیا اور اسے ایران کے اس موقف کی تقویت کے طور پر دیکھا، جس کے تحت وہ امریکہ کو خطے سے باہر نکالنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
بعض ایرانی مبصرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے ایران کے ساتھ نسبتاً بہتر تعلقات کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ خود کو ایرانی حملوں سے محفوظ بنا سکے۔
تاہم بعض دیگر ایرانی سیاست دانوں کا موقف زیادہ تنقیدی رہا، ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب امریکہ کی چھتری تلے محفوظ نہیں تھا اور ترکی و پاکستان کے ساتھ بھی محفوظ نہیں ہو گا۔ادارت: مقبول ملک