Live Updates

ایئرپورٹ کیٹرنگ ٹرک سے خفیہ منتقلی، ٹرمپ کیلئے غیر معمولی سکیورٹی آپریشن کا انکشاف

ٹرمپ انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد روانگی کیلئے پرانے ایئر فورس ون میں میڈیا کے کیمروں کے سامنے سوار ہوئے لیکن ایئرپورٹ کے ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے انہیں دوسرے طیارے منتقل کیا گیا

Sajid Ali ساجد علی منگل 11 اگست 2026 17:29

ایئرپورٹ کیٹرنگ ٹرک سے خفیہ منتقلی، ٹرمپ کیلئے غیر معمولی سکیورٹی ..
واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 اگست 2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ترکیہ سے برطانیہ روانگی کے حوالے سے ایک غیر معمولی سیکیورٹی آپریشن کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز کی رپورٹس کے مطابق ایرانی حملے یا قاتلانہ کارروائی کے خطرے کے پیش نظر ٹرمپ کو میڈیا اور وائٹ ہاؤس کے بعض اہلکاروں سے بھی خفیہ رکھتے ہوئے ایک الگ فوجی طیارے کے ذریعے برطانیہ منتقل کیا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد روانگی کے موقع پر پرانے ایئر فورس ون طیارے میں میڈیا کے کیمروں کے سامنے سوار ہوئے، تاہم اس کے چند ہی منٹ بعد انہیں خفیہ طور پر ایک چھوٹے فوجی طیارے تک منتقل کیا گیا، صدر کو ایئرپورٹ کے ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے منتقل کیا گیا، جو عام طور پر پرواز سے قبل کھانے اور دیگر سامان کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ ٹرمپ کی اصل موجودگی کو صحافیوں اور وائٹ ہاؤس کے بعض عملے سے بھی پوشیدہ رکھا گیا، ایک امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ ایران سے متعلق ایک قابلِ اعتبار خطرے کے باعث یہ خصوصی ’ڈیسیپشن آپریشن‘ شروع کیا گیا، انتظامیہ کی جانب سے پہلے یہ مؤقف سامنے آیا تھا کہ ٹرمپ 8 جولائی کو سابق ایئر فورس ون کے ذریعے ترکیہ سے روانہ ہوئے تھے۔

ٹرمپ نے روانگی سے قبل سوشل میڈیا پر بھی اعلان کیا تھا کہ وہ قطر کی جانب سے فراہم کیے گئے نئے بوئنگ 747-8 کے بجائے پرانے طیارے کے ذریعے برطانیہ جائیں گے، وہ پرانا طیارہ ’پرانے وقتوں کی خاطر‘ استعمال کریں گے، جبکہ نیا طیارہ بھی برطانیہ کے ایک اڈے پر جائے گا تاکہ وہاں موجود امریکی فوجی اس کا معائنہ کرسکیں۔ رپورٹس میں کہا جارہا ہے کہ صحافیوں کو پرانے ایئر فورس ون میں سفر کے دوران پریس کیبن کی کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی، بعض وائٹ ہاؤس اہلکار بھی یہی سمجھ رہے تھے کہ صدر اسی طیارے میں موجود ہیں، بعد میں صحافیوں کی جانب سے پردے بند رکھنے کی وجہ پوچھے جانے پر ٹرمپ نے اسے ایک ’خطرناک پرواز‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ طیارے میں موجود ہوں گے تو صحافی بھی اسی میں ہوں گے۔

امریکی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کو لے جانے والا C-32A فوجی طیارہ برطانیہ تقریباً رات 10 بج کر 20 منٹ پر پہنچا، جبکہ پرانا ایئر فورس ون اور میڈیا کا طیارہ بھی چند منٹ بعد وہاں پہنچ گیا، ٹرمپ کو تیسرے طیارے سے ایک گاڑی کے ذریعے پرانے ایئر فورس ون تک منتقل کیا گیا اور مختلف دروازے سے طیارے میں سوار کرایا گیا، برطانیہ پہنچنے کے بعد ٹرمپ پرانے ایئر فورس ون سے اترے، صحافیوں کی جانب امن کا اشارہ کیا اور امریکی فوجیوں سے ملاقات کی، بعد ازاں وہ قطر کی جانب سے فراہم کیے گئے نئے طیارے کی جانب روانہ ہوگئے۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات