رانا ثناء اللہ کی اتنی حیثیت ہی نہیں کہ وہ عمران خان سے ملاقات سے متعلق بات کر سکیں، جنید اکبر

ان کی اتنی اوقات نہیں کہ یہ محسن نقوی اور فیصل واوڈا کو جواب دے سکیں، ان کے ہاتھ میں ہے ہی کیا کہ جو یہ ہمیں بتائیں گے کہ ملاقات کروائیں گے یا نہیں، اس لیے تو ہم ان کے ساتھ بیٹھتے نہیں؛ پی ٹی آئی رہنماء کی گفتگو

Sajid Ali ساجد علی منگل 11 اگست 2026 16:03

رانا ثناء اللہ کی اتنی حیثیت ہی نہیں کہ وہ عمران خان سے ملاقات سے متعلق ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 اگست 2026ء) پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخواہ کے صدر جنید اکبر نے کہا ہے کہ رانا ثناء اللہ کی اتنی حیثیت نہیں کہ وہ عمران خان سے ملاقات کے معاملے پر بات کرسکیں، محسن نقوی اور فیصل واوڈا کے سامنے بھی ان کی کوئی حیثیت نہیں، اسی وجہ سے ہم ان کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں۔ سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر آج عمران خان کی بہنوں کو ان سے ملاقات کی اجازت نہ دی گئی تو 27 ستمبر کی کال پہلے ہی موجود ہے، اس کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا، آج ملاقات کے حوالے سے انہیں کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔

جنید اکبر نے کہا کہ تحریک انصاف سیاسی جماعت ہے اور دستیاب ہر آئینی و سیاسی فورم کو استعمال کرے گی، انہیں محسوس ہوتا ہے کہ نظام بے توقیر ہوچکا ہے اور ادارے یرغمال بنے ہوئے ہیں، چیف جسٹس کو بھی یاد دہانی کرانا ضروری ہے کہ عدلیہ کی بے توقیری ہورہی ہے، آج سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا جائے گا کہ ان کی موجودگی میں عدلیہ کی بے توقیری کو روکا جائے اور عمران خان سے بند ملاقاتوں کا سلسلہ بحال کیا جائے۔

(جاری ہے)

اس دوران جب ان سے وفاقی مشیر رانا ثناء اللہ کے بیان پر سوال کیا گیا تو پی ٹی آئی رہنماء نے جواب دیا کہ رانا ثناء اللہ کی اتنی حیثیت ہی نہیں کہ وہ عمران خان سے ملاقات سے متعلق بات کرسکیں، ان کی اتنی اوقات نہیں کہ یہ محسن نقوی اور فیصل واوڈا کو جواب دے سکیں، ان کے ہاتھ میں ہے ہی کیا کہ جو یہ ہمیں بتائیں گے کہ ملاقات کروائیں گے یا نہیں، اس لیے تو ہم ان کے ساتھ بیٹھتے نہیں۔

سلمان اکرم راجہ سے اختلافات کے حوالے سے جنید اکبر نے کہا کہ وہ ان کے بھائی ہیں اور اختلافات ہوتے رہتے ہیں، تاہم ایسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں جن سے باہمی اختلافات مزید بڑھیں، کسی کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے یا نہیں، اس کا فیصلہ سینئر قیادت کرے گی، تحریک انصاف اپنے سیاسی مؤقف کے لیے ہر دستیاب فورم استعمال کرے گی اور عمران خان سے ملاقات کے معاملے کو بھی مختلف آئینی و قانونی فورمز پر اٹھایا جائے گا۔