میررضا کیس میں سب سے غلطیاں اور غلط فہمیاں ہوئیں

اب ہم نے نئی کمیٹی بنا کر ازالہ کردیا، مقتول کے والدین کو بھی کمیٹی پر اعتماد ہے۔ آئی جی سندھ جاویدعالم اوڈھو کا اعتراف

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 12 اگست 2026 22:36

میررضا کیس میں سب سے غلطیاں اور غلط فہمیاں ہوئیں
کراچی ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 12 اگست 2026ء ) آئی جی سندھ جاویدعالم اوڈھو نے اعتراف میر رضا کیس میں غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ میررضا کیس میں سب سے غلطیاں اور غلط فہمیاں ہوئیں۔ کراچی میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے غلطی کی ہے تو میڈیکولیگل افسر نے بھی غلطی کی، لیکن اب ہم نے نئی کمیٹی بنا کر ازالہ کردیا، کمیٹی پر کوئی دباؤ نہیں اور مقتول کے والدین کو بھی کمیٹی پر اعتماد ہے۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے سندھ بار کونسل میں وائس چیئرمین اور دیگر عہدیداران سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میر رضا کیس میں پہلے جو میڈیکو لیگل رپورٹ سامنے آئی تھی، اس کی روشنی میں کارروائی کی جا رہی تھی، تاہم اب میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی روشنی میں تحقیقات جاری ہیں۔

(جاری ہے)

کوتاہیاں سب کی ہیں، میڈیکو لیگل کی بھی کوتاہی ہے، ان کوتاہیوں کا تدارک کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ میر رضا کے والدین نے تحقیقات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، معاملے میں دباؤ نہیں بلکہ غلط فہمی کی بنیاد پر بعض مسائل پیدا ہوئے۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر تحقیقات کے دوران کوئی شخص ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ پولیس اور وکلا ایک ہی کمیونٹی اور ایک ہی کرمنل جسٹس سسٹم کا حصہ ہیں، پولیس کی جانب سے بھی کچھ کوتاہیاں ہوئی ہیں۔

وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ سپریم لائسنسنگ اتھارٹی ہیں، اس لیے آپ پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہم یہاں مسائل پیدا کرنے نہیں بلکہ انہیں حل کرنے اور راستہ تلاش کرنے آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی کیس کو بنانا اور مجرمانہ کارروائی کے لیے تیار کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے، جبکہ کسی شخص کو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دینا عدالت کی ذمہ داری ہے۔

پولیس صرف مقدمہ تیار کرتی ہے، صحیح اور غلط کا فیصلہ عدالت کرتی ہے، اس لیے سسٹم کو کام کرنے دیا جائے اور خود فیصلہ نہ کیا جائے۔ نیوز ایجنسی کے مطابق آئی جی جاوید عالم اوڈھو نے بتایا کہ گزشتہ سات ماہ کے دوران ہزاروں پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائیاں کی گئی ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 27 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکاروں کو مختلف سزائیں دی جا چکی ہیں۔