دونوں بازوؤں سے محروم شخص پولیس پر پتھراؤ اور ڈنڈے برسانے کے الزام میں گرفتار

دونوں بازو ہی موجود نہیں تو پتھراؤ کیسے کرسکتا ہوں، پولیس اہلکاروں کو بارہا بتایا لیکن بات نہیں سنی گئی؛ متاثرہ شخص کا مؤقف ۔۔۔ عدالت نے مقدمے سے ڈسچارج کرکے بری کردیا

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 13 اگست 2026 13:07

دونوں بازوؤں سے محروم شخص پولیس پر پتھراؤ اور ڈنڈے برسانے کے الزام ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 اگست 2026ء) اسلام آباد پولیس نے اہلکاروں پر پتھراؤ اور ڈنڈے برسانے کے الزام میں ایک ایسے شخص کو گرفتار کرلیا جس کے دونوں بازو موجود نہیں تھے، تاہم عدالت میں پیشی کے دوران ملزم کے جسمانی معائنے کے بعد اسے مقدمے سے ڈسچارج کردیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطباق تھانہ کرپا میں درج مقدمے میں پولیس نے الزام عائد کیا تھا کہ ملزم لطیف اللہ سدوزئی نے 5 اگست کو ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا اور ڈنڈے برسائے، پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے عدالت سے تین روزہ جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کیا تھا۔

بتایا گیا ہے کہ ملزم کو دوبارہ ڈیوٹی مجسٹریٹ رضوان الدین کی عدالت میں پیش کیا گیا تو معاملے نے غیرمعمولی رخ اختیار کرلیا، ملزم کی جانب سے وکیل سردار معروف ایڈووکیٹ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل کے دونوں بازو موجود نہیں، اس لیے ان پر پولیس اہلکاروں کو پتھر مارنے اور ڈنڈے برسانے کا الزام قابلِ سوال ہے۔

(جاری ہے)

معلوم ہوا ہے کہ دوران سماعت عدالت نے ملزم کے دونوں بازوؤں کا معائنہ کیا، جسمانی معائنے کے بعد عدالت نے ملزم کو مذکورہ مقدمے سے ڈسچارج کردیا، لطیف اللہ سدوزئی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ وہ 5 اگست کے احتجاج کے بعد واپس تلہ گنگ جارہے تھے کہ پولیس نے ان کی گاڑی روک کر تلاشی لی اور گاڑی میں موجود دیگر افراد کے ساتھ انہیں بھی گرفتار کرلیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ان کے دونوں بازو ہی موجود نہیں تو وہ پولیس پر پتھراؤ کیسے کرسکتے تھے، پولیس اہلکاروں کو بھی بارہا بتایا کہ وہ بازوؤں سے محروم ہیں اور ان پر عائد الزام ممکن نہیں، تاہم ان کی بات نہیں سنی گئی اور تین روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا گیا، بعد ازاں عدالت میں ان کے دونوں بازوؤں کا معائنہ کیا گیا، جس کے بعد عدالت نے انہیں مقدمے سے ڈسچارج کردیا۔