مانسہرہ ،افواجِ پاکستان کی استقامت پر نئی تحقیقی کتاب ’دفاعِ وطن میں افواجِ پاکستان کی استقامت بنیانِ مرصوص کا عکس‘کی تقریب رونمائی

بنیانِ مرصوص ارضِ پاک کے ان تمام محافظوں کی ہمت، جرت اور قربانیوں کا اعتراف ہے جو دفاعِ وطن کیلئے ہمہ وقت مصروفِ عمل ہیں، مقررین

جمعہ 14 اگست 2026 19:51

مانسہرہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 اگست2026ء) جشن آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں ضلع مانسہرہ کی معروف علمی و روحانی شخصیت اور ممتاز محقق ڈاکٹر پیر محمد عتیق الرحمن فاروقی کی نئی تحقیقی تصنیف ’دفاعِ وطن میں افواجِ پاکستان کی استقامت: بنیانِ مرصوص کا عکس‘کی باوقار تقریبِ رونمائی و تعارف منعقد ہوئی، جس میں علمی، روحانی، سیاسی اور سماجی شعبوں سے تعلق رکھنے والی متعدد مقتدر شخصیات نے شرکت کی۔

تقریب کی صدارت استاذالعلما، شیخ الحدیث والتفسیر حضرت علامہ مفتی حافظ محمد ضیا الحق فریدی نے کی، جبکہ معروف سیاسی و سماجی شخصیت بیرسٹر سنگین خان سلطان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ مجلسِ علما اسلامیہ حنفیہ کے اراکینِ شوری اور بزمِ مصنفین ہزارہ کے معزز عہدیداران بھی تقریب میں شریک ہوئے۔

(جاری ہے)

اس موقع پر حضرت علامہ مفتی حافظ محمد ضیا الحق فریدی، بیرسٹر سنگین خان سلطان، ممتاز محقق پروفیسر ڈاکٹر الطاف یوسفزئی، چیئرمین شعبہ اردو ہزارہ یونیورسٹی، ڈاکٹر جان گل قریشی، اعجاز انجم اور عبدالوحید بسمل نے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر پیر محمد عتیق الرحمن فاروقی کے علمی و تحقیقی سفر کو معتبر حوالہ قرار دیا۔

مقررین نے کہا کہ ڈاکٹر عتیق الرحمن کی شخصیت میں روایت اور جدت کا حسین امتزاج نمایاں ہے، جہاں درسِ نظامی کا قدیم علمی ورثہ اور پی ایچ ڈی کی جدید تحقیقی وسعت ایک ساتھ نظر آتی ہے۔ علم و تحقیق سے ان کی وابستگی محض مشغلہ نہیں بلکہ ایک قومی و علمی فریضہ ہے، جس کا عملی ثبوت ضلع مانسہرہ میں قائم ان کا ادارہ تحقیقاتِ اسلامی الحبیب لائبریری ہے، جہاں 50 ہزار سے زائد نایاب کتب کا عظیم ذخیرہ موجود ہے جو محققین اور تشنگانِ علم کے لیے ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتا ہے۔

کتاب پر مقالہ جات پیش کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ڈاکٹر پیر محمد عتیق الرحمن فاروقی کا قلم ہمیشہ ملت کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کا ترجمان رہا ہے۔ ان کے مطابق ایک قلم کار کی فکری جدوجہد اور ایک سپاہی کا سرحدوں پر پہرہ دراصل ایک ہی مقصد کے دو اہم پہلو ہیں۔کتاب کے مندرجات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بنیانِ مرصوص ارضِ پاک کے ان تمام محافظوں کی ہمت، جرت اور قربانیوں کا اعتراف ہے جو دفاعِ وطن کے لیے ہمہ وقت مصروفِ عمل ہیں۔

ڈاکٹر عتیق الرحمن نے اپنی تصنیف میں افواجِ پاکستان، بشمول بری، بحریہ اور فضائیہ، سمیت قومی دفاعی اداروں کی خدمات اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔مقررین نے کہا کہ یہ کتاب ان جانبازوں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی ایک سنجیدہ علمی کوشش ہے جو تپتے صحراں سے لے کر برف پوش چوٹیوں تک وطن کی سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہیں۔

تقریب کے دوران نقابت کے فرائض علامہ مفتی عنایت الرحمن نے انجام دیے، جبکہ تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت علامہ قاری حافظ سید مبارک شاہ نقشبندی نے حاصل کی۔ تقریب میں علامہ مولانا محمد اعظم قادری، مفتی حبیب المالک لقمانوی، ملک صابر اعوان، ملک شکیل اعوان اور انجمن تاجران کی نمائندگی کرتے ہوئے عظیم ناشاد سمیت دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی اور ڈاکٹر پیر محمد عتیق الرحمن فاروقی کی علمی و تحقیقی کاوش کو سراہا۔

تقریب کے اختتام پر ملکی سلامتی، استحکام اور افواجِ پاکستان کی سربلندی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ اس کے علاوہ ڈی پی او مانسہرہ اظہر خان کے والدِ مرحوم، صحافی شعیب تنولی کی بخشش و مغفرت اور عظیم علمی و روحانی شخصیت شیخ الحدیث علامہ پیر سید حسین الدین شاہ کے درجات کی بلندی جبکہ ان کے تلامذہ اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی گئی۔