اٹک میں محکمہ تعلیم کی جانب سے طلبہ و طالبات میں اسناد اور لیپ ٹاپس تقسیم کرنے کی تقریب بدانتظامی کی مثال بن گئی

- تقریب کا وقت صبح 10 بجے مقرر تھا، جبکہ ضلع بھر کے دور دراز سرکاری اسکولوں سے بچوں اور بچیوں کو کئی گھنٹے پہلے بلا لیا گیا، تاہم مہمان خصوصی صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات تقریباً ساڑھے چار گھنٹے تاخیر سے پہنچے

جمعہ 14 اگست 2026 19:15

د*اٹک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 14 اگست2026ء) اٹک میں یوم آزادی کی تعلیمی تقریب بدانتظامی کی مثال بن گئی، اٹک میں محکمہ تعلیم کی جانب سے طلبہ و طالبات میں اسناد اور لیپ ٹاپس تقسیم کرنے کی تقریب بدانتظامی کی مثال بن گئی، تقریب کا وقت صبح 10 بجے مقرر تھا، جبکہ ضلع بھر کے دور دراز سرکاری اسکولوں سے بچوں اور بچیوں کو کئی گھنٹے پہلے بلا لیا گیا، تاہم مہمان خصوصی صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات تقریباً ساڑھے چار گھنٹے تاخیر سے پہنچے، دلچسپ امر یہ ہے کہ وزیر موصوف نے تقریب میں پہنچ کر صرف ایک گھنٹہ تاخیر کی معذرت کی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں تقریب کے مقررہ وقت کا بھی درست علم نہیں تھا، دور دراز علاقوں سے آنے والے بچے اور بچیاں اس دوران پورا دن بھوکے اور پیاسے بیٹھے رہے۔

(جاری ہے)

تقریب سے قبل کھانا اس خدشے کے باعث تقسیم نہیں کیا گیا کہ بچے کھانا کھا کر واپس نہ چلے جائیں، جبکہ تقریب کے اختتام کے بعد انہیں کھانا فراہم کیا گیا، دوسری جانب تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم نے صحافیوں کے بچوں کے لیے ایک نئی تجویز کا اعلان کیا کہ ایف اے /ایف ایس سی میں 80 فیصد سے زائد نمبر حاصل کرنے والے صحافیوں کے بچوں کو پنجاب حکومت کے زیرانتظام کالجز اور یونیورسٹیوں میں باقی تعلیم مفت فراہم کرنے پر غور کیا جائے گا، صحافیوں کا کہنا ہے کہ 15 سال سے پریس کلب کی عمارت سے محروم اٹک کے صحافیوں کو پہلے بھی مختلف اعلانات اور وعدوں کے ذریعے لولی پاپ دیا جاتا رہا ہے، مگر عملی طور پر انہیں آج تک بیٹھ کر کام کرنے کے لیے اپنا پلیٹ فارم میسر نہیں آسکا، ایسے میں پریس کلب کی عمارت کے بنیادی مسئلے کے حل کے بجائے ایک نیا اعلان صحافیوں کے لیے ایک اور لولی پاپ محسوس ہوتا ہے، ایک طرف جدید تعلیم کے دعوے، دوسری طرف دور دراز سے بلائے گئے بچوں کو گھنٹوں بھوکا پیاسا رکھنے کا واقعہ، اٹک کی یہ تقریب انتظامی کارکردگی پر کئی سوالات چھوڑ گئی۔