اعظم نذیر تارڑ کی زیرِ صدارت رائٹ آف وے سے متعلق کمیٹی کا اجلاس، قانونی فریم ورک کا جائزہ لیا گیا

پیر 17 اگست 2026 19:51

اعظم نذیر تارڑ کی زیرِ صدارت رائٹ آف وے سے متعلق کمیٹی کا اجلاس، قانونی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 اگست2026ء) وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی ضروریات اور نجی ملکیتی حقوق کے درمیان مناسب توازن یقینی بنانا ضروری ہے۔وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی زیرِ صدارت پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن (ترمیمی) بل 2026 میں رائٹ آف وے کی شقوں کے جائزے سے متعلق کمیٹی کا اجلاس ہوا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شیزہ فاطمہ، وزارتِ قانون و انصاف اور وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں رائٹ آف وے سے متعلق مجوزہ ترامیم اور موجودہ قانونی فریم ورک کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

(جاری ہے)

ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کی تنصیب اور رائٹ آف وے کے استعمال سے متعلق قانونی امور پر بھی غور کیا گیا۔

اجلاس میں عوامی، مشترکہ ترقیاتی اور نجی املاک کے حوالے سے وفاقی، صوبائی اور مقامی اداروں کے دائرہ اختیار کو واضح کرنے کے امور کا جائزہ لیا گیا۔نجی ملکیت پر ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کی تنصیب کے لیے مالک کی تحریری رضامندی کے طریقہ کار، رائٹ آف وے کے استعمال میں رضامندی، معاوضے اور دیگر قانونی تقاضوں کو واضح کرنے پر بھی غور کیا گیا۔

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی ضروریات اور نجی ملکیتی حقوق کے درمیان مناسب توازن یقینی بنانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کے ملکیتی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کے فروغ کو یقینی بنایا جائے گا۔سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ رائٹ آف وے سے متعلق قانونی ابہام دور کرکے واضح اور مؤثر قانونی فریم ورک تشکیل دینا ہوگا۔

انہوں نے رائٹ آف وے کے استعمال کے لیے شفاف، واضح اور قابلِ عمل طریقہ کار کی ضرورت پر زور دیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کی توسیع کے ساتھ املاک کے مالکان کے حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کے فروغ کے لیے ایسا قانونی فریم ورک ضروری ہے جو تمام اسٹیک ہولڈرز کے حقوق اور مفادات کا تحفظ کرے۔

اجلاس میں نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو قواعد و ضوابط کے ذریعے قانونی دائرے میں شامل کرنے کی تجویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ٹیلی کام کمپنیوں اور متعلقہ پراپرٹی مالکان کی ذمہ داریاں واضح کرنے، ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی تنصیب کے بعد املاک کی حفاظت، دیکھ بھال اور بحالی سے متعلق ذمہ داریاں متعین کرنے پر بھی غور کیا گیا۔وفاقی وزیر نے وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کو مجوزہ قانونی مسودے میں ممکنہ قانونی و عملی مسائل دور کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن مجوزہ قانونی مسودے کو حتمی شکل دے کر کمیٹی کے سامنے پیش کرے گی۔