ماحول کے تحفظ، تباہ شدہ علاقوں کی بحالی اور پاکستان کو سرسبز و موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے قابل بنانے کے لئے اجتماعی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا، صدر مملکت آصف علی زرداری کا مون سون شجرکاری مہم 2026 کے آغاز پر پیغام

پیر 17 اگست 2026 19:54

ماحول کے تحفظ، تباہ شدہ علاقوں کی بحالی اور پاکستان کو سرسبز و موسمیاتی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 اگست2026ء) صدرمملکت آصف علی زرداری نے مون سون شجرکاری مہم 2026 کے آغاز پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماحول کے تحفظ، تباہ شدہ علاقوں کی بحالی اور پاکستان کو سرسبز و موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے قابل بنانے کے لئے اجتماعی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا، جنگلات پاکستان کے قیمتی ترین قدرتی اثاثوں میں شامل ہیں،یہ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، آبی ذخائر کی حفاظت، صحرائی اور زمینی کٹاؤ کی روک تھام، فضائی معیار میں بہتری، قدرتی آفات کے خطرات میں کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق مون سون شجرکاری مہم 2026 کے آغاز پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی چیلنجز میں اضافے کے پیش نظر جنگلات کا تحفظ اور ان میں اضافہ قومی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ایک سٹریٹجک ترجیح بھی بن چکا ہے۔

(جاری ہے)

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول اور پیرس معاہدے، اقوام متحدہ کے جنگلات سے متعلق سٹریٹجک پلان 2017-2030، اقوام متحدہ کے کنونشن برائے انسدادِ صحرائی اور زمینی کٹاؤ اور حیاتیاتی تنوع سے متعلق کنونشن کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لئے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتیں اور دیگر متعلقہ ادارے جنگلات کے تحفظ، ماحولیاتی نظام کی بحالی اور زمین کے پائیدار انتظام کو مزید مضبوط بنانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔صدر مملکت کے مطابق اپ سکیلنگ گرین پاکستان پروگرام، مینگرووز کے ماحولیاتی نظام کی بحالی، پائیدار جنگلاتی انتظام اور مقامی آبادی کی شمولیت پر مبنی تحفظ کے پروگرام ملک میں درختوں کے رقبے میں اضافے، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، روزگار کے مواقع بہتر بنانے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں لچک پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ نئے درخت لگانے کے ساتھ موجودہ جنگلات کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے اور اس امر پر خصوصی توجہ دی جائے کہ لگائے گئے پودے زندہ رہیں اور وقت کے ساتھ تناور درخت بنیں۔صدر مملکت نے کہا کہ درختوں کے فوائد عوام کی روزمرہ زندگی میں بھی نمایاں ہیں۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت والے شہری علاقوں میں درخت سایہ فراہم کرتے ہیں، مٹی اور آبی وسائل کا تحفظ کرتے ہیں، ہوا کے معیار کو بہتر بناتے ہیں جبکہ دیہی آبادیوں کو پھل، چارہ اور دیگر وسائل فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گرمی، پانی کی قلت اور شدید موسمی حالات سے متاثرہ خاندانوں، کسانوں اور مقامی آبادیوں کے لئے صحت مند جنگلات اور سرسبز مقامات موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بننے کا عملی ذریعہ ہیں۔صدر مملکت نے بہار شجرکاری مہم 2026 میں عوام کی بھرپور شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کوششوں کو آگے بڑھاتے ہوئے مون سون شجرکاری مہم 2026 کے دوران ملک بھر میں 2 کروڑ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

انہوں نے شہریوں خصوصاً نوجوانوں، تعلیمی اداروں، سرکاری و نجی تنظیموں اور مقامی آبادیوں پر زور دیا کہ وہ مہم میں بھرپور حصہ لیں اور اس سے بھی بڑھ کر لگائے گئے پودوں کی حفاظت اور نگہداشت کو یقینی بنائیں۔صدر نے کہا کہ مون سون شجرکاری مہم محض پودے لگانے کی مہم نہیں بلکہ مسلسل ماحولیاتی ذمہ داری اور اجتماعی اقدام کا تقاضا ہے۔ انہوں نے شہریوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ موزوں مقامی درختوں کی اقسام لگائیں اور ان کی حفاظت اور بقا ء کو یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ مہم کی حقیقی کامیابی کا پیمانہ صرف لگائے گئے پودوں کی تعداد نہیں بلکہ آنے والے برسوں میں ان پودوں سے پروان چڑھنے والے صحت مند درخت اور جنگلات ہوں گے۔انہوں نے وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری، صوبائی محکمہ جنگلات، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے محکمہ جنگلات، ترقیاتی شراکت داروں، سول سوسائٹی تنظیموں اور رضاکاروں کی جانب سے پاکستان کے جنگلات اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لئے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ سرسبز، صاف ستھرے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں مضبوط پاکستان کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ قدرتی وسائل کے تحفظ اور آج لگائے جانے والے درختوں کی نگہداشت کے ذریعے آنے والی نسلوں کے لیے صحت مند ماحول اور بہتر مستقبل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔