وزیراعلیٰ ہمیں موسیٰ خیل کا حصہ رہنے دیا جائے تاکہ علاقہ ترقی کرسکے اور مکینوں کو زندگی کی بنیادی سہولیات میسر آسکیں،قبائلی و سیاسی رہنما

ہفتہ 15 اگست 2026 19:35

]کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 15 اگست2026ء) راڑہ شم کے قبائلی و سیاسی رہنمائوں سردار سید اسد زمان شاہ ، سید قربان علی غرشین، سید عباد اللہ شاہ غرشین نے وزیر اعلیٰ بلوچستان اور اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ ہمیں موسیٰ خیل کا حصہ رہنے دیا جائے تاکہ علاقہ ترقی کرسکے اور مکینوں کو زندگی کی بنیادی سہولیات میسر آسکیں۔ بارکھان میں شامل ہونے سے ہمارے لوگوں کو اپنے روز مرہ کے امور کے لئے کئی سو کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے ساتھ ساتھ اضافی مالی اخراجات اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا یہ بات انہوں نے چیئرمین ، وائس چیئرمین یونین کونسل راڑہ شم ، سابق چیئرمین عطاء اللہ ، وائس چیئرمین لعل جان اور دیگر قبائلی عمائدین کے ہمراہ ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر سید دوست محمد شاہ، سید حفیظ الرحمن، ملک جواہر شاہ، سید جہانگیر، نواب خان سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ سید عباد اللہ شاہ غرشین اور دیگر رہنمائوں نے کہا کہ ہمارا تعلق راڑہ شم سے ہے اور ہم 412 کلو میٹر کا فاصلہ طے کرکے حکام بالا تک اپنی آواز پہنچانے کے لئے ہیں ہمارے گائوں کی آبادی 7797 ہے جس میں 4940 سادات غرشین اور سادات بخاری ہیں۔

جبکہ 2857 بزدار، لشکرانی اور لاشاری بلوچ ہیں تعلیمی خواندگی کی شرح 80 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا گائوں این 70 قومی شاہراہ پر لورالائی اور ڈیرہ غازی کے درمیان واقع ہے علاقے میں تعلیمی اداروں کے علاوہ ڈسپنسری، بیسک ہیلتھ یونٹ، بی ایچ یو کی اپ گریڈیشن کے ساتھ ساتھ دانش سکول زیر تعمیر ہے اور علاقے کے نوجوانوں کے لئے کھیلوں کی سہولت کے لئے اسٹیڈیم اور عوام کو پینے کے صاف پانی کیلئے واٹر سپلائی اسکیم موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحصیل کنگری ہمارے گائوں راڑہ شم سے 13 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور راڑہ شم لورالائی ڈویژن اور نوزائیدہ کوہ سلیمان کا سب سے ترقی یافتہ گائوں اور یونین کونسل ہے انہوں نے کہا کہ فروری 2026ء میں یونین کونسل راڑہ شم کی انتظامی طور پر بارکھان اور کوہ سلیمان میں شمولیت کی اطلاع پر علاقے میں قبائلی نمائندوں کا جرگہ بلایا گیا جس نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سے 35 رکنی وفد کے ہمراہ ملاقات کی اور انہیں صورتحال سے آگاہ کیا 8 جولائی 2026ء کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے صوبہ بھر میں اتھل پتھل کی گئی جس میں راڑہ شم کو بارکھان میں شمولیت کے بعد دو ضلعوں میں تقسیم کیا گیا جبکہ غرشین لورالائی اور بخاری میں سکونت پذیر ہے اس عمل سے ہمیں راڑہ شم سے موسیٰ خیل 85 کلو میٹر اور بارکھان 110 کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑے گا اور ہمیں لوکل سرٹیفکیٹ سمیت دیگر قانونی دستاویزات کے حصول کے لئے کئی سو کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے ساتھ ساتھ اضافی مالی اخراجات اور تکالیف برداشت کرنا پڑے گی ہم نے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں اور متعلقہ حکام سے رابطے کرکے صورتحال سے آگاہ کیا لیکن کوئی شنوائی نہیںہوئی کیونکہ ہمارے کھیتران قبیلے اور دیگر قبائل سے بھی تعلقات ہیں ہم اپنی سابقہ حیثیت بحال رکھنا چاہتے ہیں اس لئے حکومت فوری طور پر اس کو یقینی بناتے ہوئے ہمیں اس مشکل صورتحال سے نجات دلائے۔