عمران خان کی حالت کے ذمہ دار حکومت، عدلیہ اور بانی کو اغواء کرنے والے ہیں

سرکاری رپورٹ پر ہمیں انتہائی تشویش ہے، فیملی کی فوری ملاقات کروائی جائے، جب عدلیہ انصاف نہیں کرتی تو پھر عوام کا انصاف بہت خطرناک ہوتا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ پیر 17 اگست 2026 20:39

عمران خان کی حالت کے ذمہ دار حکومت، عدلیہ اور بانی کو اغواء کرنے والے ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 17 اگست 2026ء ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حالت کے ذمہ دار حکومت، عدلیہ اور بانی کو اغواء کرنے والے ہیں، سرکاری رپورٹ پر ہمیں انتہائی تشویش ہے، فیملی کی فوری ملاقات کروائی جائے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں جنید اکبر اور اسد قیصر کے پمراہ نیوزکانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ جو سرکاری رپورٹ جمع ہوئی ہے اس پر ہمیں انتہائی تشویش ہے، ہمیں نہیں پتہ کہ ہمارے قائد کو کس حال میں رکھا گیا ہے انکی فیملی کی فوری ملاقات کروائی جائے۔

جو عمران خانکی صحت کے حوالے سے آج رپورٹ آئی ہے اس پر خان کی فیملی اور وکلاء کے ساتھ پی ٹی آئی قیادت مشاورت کرے گی اس کے بعد لائحہ عمل پیش کیا جائے گا۔

(جاری ہے)

جو رپورٹ سامنے آئی ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے اس سے قبل عمران خان کے ذاتی معالجین ڈاکٹر عاصم اور ڈاکٹر فیصل نے جب عمران خان کا معائنہ کیا ان کا بلڈ پریشر نارمل 110 ,120 کے درمیان رہا ہے آج کی رپورٹ میں 140/100 دکھایا گیا ہے، اگر رپورٹ میں یہ ہے تو اصل صورتحال کیا ہوگی؟ اس رپورٹ نے پوری قوم کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

عمران خان اغواء سے قبل سپر فٹ تھے۔ عمران خان کے ساتھ جب کوئی مسئلہ ہوا عدلیہ خاموش رہی جب عدالتوں کا ایک سابق وزیراعظم، ملک کے سب سے مقبول لیڈر کے ساتھ یہ رویہ ہے تو عام عوام کو کیا انصاف ملے گا۔ جب عدالتیں انصاف نہ کریں وہاں عوام خود انصاف کرتی ہے اور عوام کا انصاف بہت سخت ہوتا ہے۔ جب عدلیہ انصاف نہیں کرے گی تو عوام اپنے ہاتھ میں لے گی اور جب عوام انصاف کرتی ہے تو وہ بہت خطرناک ہوتا ہے۔

اس انصاف کے سامنے پھر کسی کا بس نہیں چلتا۔ جب سے عمران خان کی آنکھ کا مسئلہ بنا ہم ایک ہی مطالبہ کررہے کہ ان کا علاج ان کی فیملی اور ذاتی معالجین کی نگرانی میں ہو اس میں کیا غلط ہے؟ کیا غیر قانونی ہے؟ عمران خان کی اس حالت کے ذمہ دار موجودہ حکومت، عدلیہ اور عمران خان کو اغواء کرنے والے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنماء جنید اکبر نے کہا کہ جو آج عدالت میں چیئرمین عمران خان کی صحت کے حوالے سے رپورٹ جمع کروائی گئی اس کو دیکھ کر پوری قوم کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ اس پر ہم تفصیلی موقف فیملی سے مشاورت کے بعد پیش کریں گے۔ صحت کی اس صورتحال کے باوجود نہ خان کو ذاتی ڈاکٹرز اور نہ فیملی کی رسائی دی جارہی ہے۔