اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 16 اگست 2026ء) اقوام متحدہ نے اتوار کے روز بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اکتوبر 2025ء سے جاری سرحدی کشیدگی اور زمینی سرحد کی تقریباً مکمل بندش کے باوجود بین الاقوامی انسانی امداد لے جانے والے 724 ٹرک پاکستان کے راستے افغانستان پہنچ گئے ہیں۔
افغانستان
میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (اوچا) کی ایک ترجمان اولگا چیرویکا نے اے ایف پی کو بتایا کہ امدادی قافلے میں خوراک اور دیگر ضروری انسانی امدادی سامان شامل ہے۔ افغانستان میں لاکھوں افراد غذائی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔پاکستان
میں اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ اور ہیومینیٹیرین کوآرڈی نیٹر مو یحییٰ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ''724 ٹرک ہیومینیٹیرین امداد لے کر طورخم بارڈر کے ذریعے افغانستان پہنچے، جہاں اس امداد کی اشد ضرورت تھی۔(جاری ہے)
‘‘
انہوں نے اس امدادی راہداری کو کھلا رکھنے میں تعاون پر پاکستان اور دیگر متعلقہ فریقوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔
افغان شہریوں کی امداد کی ضرورت ہے
ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے رواں ماہ کے آغاز میں خبردار کیا تھا کہ افغانستان میں بچوں میں شدید غذائی قلت تشویش ناک حد تک بڑھ چکی ہے۔
ڈبلیو ایف پی کے مطابق گزشتہ سال کے تباہ کن زلزلوں، رواں سال موسمیاتی آفات اور 2023ء سے ایران اور پاکستان سے لاکھوں افغان مہاجرین کی واپسی کے باعث تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ افغان شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
پاکستان
کے ساتھ تنازعے کے نتیجے میں اکتوبر سن 2025 سے دونوں ممالک کے درمیان زمینی سرحد تقریباً بند ہے، جس کی وجہ سے امدادی سامان کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ڈبلیو ایف پی کے نائب ایگزیکٹو ڈائریکٹر کارل سکاؤ نے مئی میں اے ایف پی کو بتایا تھا کہ افغانستان کے اسکولوں کے بچوں کے لیے پاکستان سے آنے والے غذائی بسکٹس کو متبادل راستے سے ایران کے ذریعے بھیجنا پڑا، تاہم ایران میں جنگ کے باعث وہ راستہ بھی متاثر ہو گیا۔
بعد ازاں یہ امدادی سامان اردن، ترکی اور آذربائیجان سمیت کئی ممالک سے گزرتے ہوئے زمینی اور سمندری راستوں کے ذریعے کئی ماہ بعد افغانستان پہنچ سکا۔