14 اگست کو احتجاج کرنے والے ہم میں سے نہیں،اختیار ولی پی ٹی آئی پر برس پڑے

اتوار 16 اگست 2026 20:20

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 اگست2026ء) مسلم لیگ (ن)کے رہنما اختیار ولی خان نے پاکستان تحریک انصاف کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ 14 اگست کو احتجاج کرنے والے ہم میں سے نہیں، یہ لوگ ملک کے نظریے اور قومی تشخص سے متصادم طرزِ عمل اختیار کر رہے ہیں۔ میڈیا سے گفگو کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی والے دو قومی نظریے کو بھی نہیں مانتے اور شہدا کو بھی شہید تسلیم نہیں کرتے، سوال یہ ہے کہ یہ لوگ کون ہیں اور ان کا ایجنڈا کیا ہی انہوں نے لزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنوں نے جناح ہاس کو تباہ کیا اور ریڈیو پاکستان کو آگ لگائی، پی ٹی آئی والے اپنے لیڈر کو قائداعظم سے بڑا لیڈر مانتے ہیں۔

رہنما پاکستان مسلم لیگ (ن )نے کہا کہ پی ٹی آئی جتنا کھیلنا چاہتی تھی، کھیل چکی ہے اور اب قوم کے سامنے حقائق رکھنے کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

اختیار ولی خان نے خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں تعلیمی ادارے بند ہو چکے ہیں، جنگلات کاٹنے والے وزیر جنگلات بن گئے جبکہ چوری کے موبائل اور موٹرسائیکلیں بیچنے والے وزیر بن گئے ہیں، آئس کے کاروبار سے وابستہ افراد بھی وہاں حکمران بن چکے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ جن لوگوں کے پاس پہلے پیسے نہیں تھے، وہ آج پشاور اور سوات میں ہوٹلوں کے مالک بن چکے ہیں، ذاتی مفاد کے لیے کوئی منشیات فروخت کر رہا ہے، کوئی جنگلات کاٹ رہا ہے اور کوئی تعلیمی نظام تباہ کر رہا ہے۔رہنما پاکستان مسلم لیگ (ن )نے کہا کہ مدینہ کی ریاست کا نعرہ لگانے والوں کی حکومت میں حج اور عمرہ مہنگا کر دیا گیا، جبکہ انقلاب لانے کے دعوے کرنے والوں نے ملک کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا۔

اختیار ولی خان نے کہا کہ ہم نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا، جبکہ یہ لوگ ملک کے تین ٹکڑے کرنے کی باتیں کرتے تھے، پاکستان کی سفارتکاری آج بڑے ممالک کے ساتھ مقابلہ کر رہی ہے اور ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے موثر کردار ادا کیا جا رہا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے سکیورٹی فورسز پر حملے کے بعد انہیں اپنا کارکن ماننے سے انکار کیا جاتا ہے جبکہ بھارت کی شکست پر بھی پی ٹی آئی والوں کو مرگی کے دورے پڑتے ہیں۔رہنما پاکستان مسلم لیگ (ن )نے کہا کہ 14 اگست جیسے قومی دن پر احتجاج کرنے والوں کو قوم کو جواب دینا چاہیے کہ وہ کس ایجنڈے کے تحت ایسا کر رہے ہیں۔