خواتین کو بااختیار بنائے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ

عورت مرد سے کسی صورت کمزور نہیں، آئین خواتین کو مساوی حقوق دیتا ہے، جسٹس ظفر احمد راجپوت

اتوار 16 اگست 2026 21:35

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 اگست2026ء) چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس ظفر احمد راجپوت نے کہا ہے کہ کوئی بھی معاشرہ خواتین کو بااختیار بنائے بغیر ترقی نہیں کرسکتا، عورت کسی صورت مرد سے کمزور نہیں، آئین پاکستان بھی خواتین کو مردوں کے مساوی حقوق فراہم کرتا ہے، اس لیے ہمیں اپنے گھروں سے ہی بیٹے اور بیٹی کو برابری کے حقوق دے کر اسلام اور قانون کے مساوی حق کا آغاز کرنا ہوگا۔

وہ جسٹس انٹرنیشنل پاکستان اور سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے اشتراک سے آرٹس کونسل کراچی میں منعقدہ نویں نیشنل وومن لا کانفرنس سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔ کانفرنس کی صدارت پاکستان کی پہلی خاتون جج جسٹس (ر) ماجدہ رضوی نے کی۔چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ خواتین کو تعلیم، روزگار، عدلیہ، وکالت اور دیگر شعبوں میں آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کرنا معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

(جاری ہے)

خواتین کی صلاحیتوں کو تسلیم کرکے انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کیے بغیر قومی ترقی کا سفر مکمل نہیں کیا جاسکتا۔سندھ کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن ایڈووکیٹ روبینہ بروہی نے ادارے کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے خواتین کو ہراسانی، امتیازی سلوک اور دیگر مسائل سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں سے آگاہ کیا۔جسٹس (ر) سعیدہ جہاں نے اپنی زندگی کے تجربات اور بچوں کی تربیت کے حوالے سے اظہار خیال کیا، جبکہ جسٹس (ر) ماجدہ رضوی کی مسلسل نویں نیشنل وومن لا کانفرنس میں شرکت کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جنرل سیکریٹری فریدہ منگریو نے کہا کہ معاشرے میں خواتین وکلا اور ججز نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ کانفرنس میں عدلیہ کی بھرپور شرکت سے خواتین وکلا کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کامیابی کے پیچھے ان کے والد اور بھائی کا اہم کردار ہے، اسی طرح تمام والدین اپنی بیٹیوں کو ہر شعبے میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کریں تو معاشرے میں حقیقی صنفی مساوات قائم ہوسکتی ہے۔

ایڈووکیٹ ندیم شیخ اور ایڈووکیٹ سلیم مائیکل نے کانفرنس کے مقاصد اور جسٹس انٹرنیشنل پاکستان کی خواتین کے حقوق کے حوالے سے خدمات پر روشنی ڈالی۔ ہائیکورٹ بار کے صدر حسیب جمالی، کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر عامر نواز وڑائچ، اے آئی جی سندھ قیصر عباس، آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ، جسٹس (ر) رخسانہ احمد، ایڈووکیٹ حسنہ بانو اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

اس موقع پر مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی خواتین کو ایوارڈز دیے گئے۔ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس ظفر احمد راجپوت، جسٹس (ر) ماجدہ رضوی، جسٹس (ر) سعیدہ جہاں اور جسٹس (ر) رخسانہ احمد نے ایوارڈز تقسیم کیے۔تقریب میں وکلا، خواتین کارکنان، نرسز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین و حضرات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مہمانوں کو پھولوں کے گلدستے بھی پیش کیے گئے، جبکہ اختتام پر شرکاء کے لیے عصرانے کا اہتمام کیا گیا۔