Live Updates

صدر ٹرمپ ایران کیخلاف جنگ میں حصہ نہ لینے پر جنوبی کوریا سے ناراض

یہ مشقیں نہ صرف مہنگی ہیں بلکہ شمالی کوریا کو انتہائی نامناسب اور جارحانہ پیغام دیتی ہیں.امریکی صدرکا بیان

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر 17 اگست 2026 15:48

صدر ٹرمپ ایران کیخلاف جنگ میں حصہ نہ لینے پر جنوبی کوریا سے ناراض
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔17 اگست ۔2026 ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ میں حصہ نہ لینے پر جنوبی کوریا سے ناراضگی کا اظہار کر تے ہوئے سیﺅل کے ساتھ فوجی مشقیں محدود کرنے کی ہدایت جاری کردی امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ میں نے حال ہی میں جنوبی کوریا کے صدر سے پوچھا کہ کیا وہ اسلامی جمہوریہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے میں ہمارے ساتھ شامل ہونا چاہیں گے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ 'نہیں شکریہ.

(جاری ہے)

ٹرمپ نے کہا کہ پینٹاگون سربراہ کو جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں کم کرنے کی ہدایت کردی ہے امریکی صدر کے مطابق اگرچہ اب ان مشقوں کو منسوخ کرنے میں بہت دیر ہو چکی ہے، لیکن وہ اس بات پر خوش نہیں ہیں کہ امریکا نے پہلے ان میں شرکت پر رضامندی ظاہر کی تھی. امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یہ مشقیں نہ صرف مہنگی ہیں بلکہ شمالی کوریا کو انتہائی نامناسب اور جارحانہ پیغام دیتی ہیں جو ان کے دور صدارت میں امریکا کے لئے کسی خطرے کا باعث نہیں بنا اور ہمیشہ احترام کا رویہ اختیار کیے رکھا ٹرمپ نے کہا کہ شمالی کوریا کے کم جونگ ان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں.

واضح رہے کہ امریکا اور جنوبی کوریا کے درمیان سفارتی تعلقات میں تناﺅ اس وقت آیا تھا جب گزشتہ سال امریکی ریاست جارجیا میں صدرٹرمپ کی درخواست پر قائم کی جانے والی ایک فیکٹری پر ہوم لینڈسیکورٹی اور دیگر محکموں نے مشترکہ کاروائی میں سینکڑوں کورین انجینئروں کو حراست میں لے کر انہیں ہتھکڑیاں لگا کر جیل میں بندکردیا تھا. کوریا کے حکام کا کہنا تھا کہ انہوں نے صدرٹرمپ کی درخواست پر جارجیا میں دنیا کی بڑی کارساز کمپنی ”ہنڈائی“اور الیکٹرانکس کمپنی ”ایل جی“کے مشترکہ منصوبے کے طور پر الیکٹرک گاڑیاں اور ان کی بیڑیاں بنانے کے لیے کارخانہ قائم کیا تھا جہاں پر کوریا سے300انجینئروں کو مقامی ورکروں کی تربیت کے لیے بجھوایا گیا تھا تاہم نومبر2025میں امیگریشن حکام اور ہوم لینڈ سیکورٹی کے اداروں نے انہیں ”غیرقانونی تارکین وطن“قراردیتے ہوئے گرفتار کرکے کئی دنوں تک ”آئس“کے حراستی مرکز میں رکھا گیا.

امریکی اداروں کی جانب جاری ویڈیوز میں کوریائی انجینئروں کو ہتھکڑیوں میں دکھایا گیا جس کے بعد کوریا کے ذرائع ابلاغ کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا‘بعدازاں انجینئروں کی جانب سے بنائی گئی خفیہ تصاویر اور ویڈیوزبھی سامنے آئیں جن میں انہیں بیڑیوں اور ہتھکڑیوں میں تنگ جگہوں پر قید دکھایا گیا تھا‘کورین کمپنیوں کا کہنا تھا کہ ان کا عملہ درست ویزوں پر گیا تھا اور امریکی حکام کو ان کے بارے میں آگاہ بھی کیا گیا تھا ‘اس تنازع کے آغازمیں صدر ٹرمپ اور وائٹ ہاﺅس نے ”آئس “کی کاروائی کا دفاع کرتے ہوئے اس کی حمایت کی تھی .

بعدازاں امریکی صدر نے معذرت خواہانہ رویہ اپناتے ہوئے گرفتار انجینئروں کو نئے ویزے جاری کرنے کی پیشکش کی تھی جسے نہ صرف انجینئروں بلکہ کورین کمپنیوں اور وزارت خارجہ نے بھی مسترد کردیا تھا. 
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات