بھارت، ریاست مہاراشٹر میں آسیب کا خوف، 600 طلبہ نے بورڈنگ سکول چھوڑ دیا

انتظامیہ کی جانب سے نفسیاتی ماہرین سمیت بھوت‘پریت کے ماہر جوگیوں کو دوروں کی دعوت

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر 17 اگست 2026 17:23

بھارت، ریاست مہاراشٹر میں آسیب کا خوف، 600 طلبہ نے بورڈنگ سکول چھوڑ دیا
نئی دہلی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔17 اگست ۔2026 ) بھارتی ریاست مہاراشٹر میں ایک سرکاری بورڈنگ سکول کے تقریبا 600 طلبہ نے چند طالبات کے غیر معمولی رویے کے بعد سکول چھوڑ دیا بھاتی ذرائع ابلاغ کے مطابق 22 جولائی کو 4 طالبات اچانک بے قابو ہو کر رونے اور بعد ازاں غیر معمولی طور پر ہنسنے لگیں جس کے بعد یہ افواہ پھیل گئی کہ ان طالبات پر آسیب کا سایہ ہے، بعض طالبات نے پازیب کی آوازیں سنائی دینے کا بھی دعوی کیا.

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈوما گاﺅں کے سرکاری بورڈنگ سکول میں 810 طلبہ و طالبات زیرتعلیم ہیں، چند روز کے دوران خوف اور افواہوں کے باعث تقریبا 600 طلبہ وہاں سے جا چکے ہیں سکول کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متعدد ماہرین صحت نے سکول اور ہاسٹل کا دورہ کیا اور جائزہ لیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ سکول یا ہاسٹل سے کسی مافوق الفطرت عنصر کے شواہد نہیں ملے .

ماہرین کے مطابق یہ ذہنی دباﺅ سے پیدا ہونے والی ہسٹیریا جیسی کیفیت ہو سکتی ہے، گاﺅں کی بعض خواتین میں بھی بعد ازاں ایسی ہی علامات ظاہر ہوئی ہیں بھارتی حکام کی جانب سے مرتب کی گئی رپورٹ کے مطابق واقعے کے حوالے سے مختلف توہمات بھی پھیل گئی ہیں مقامی لوگوں کا خیال تھا کہ بورڈنگ سکول کی جگہ موجود مہوا کے درخت پر ارواح کا بسیرا تھا جسے انتظامیہ نے کاٹ دیا اور اس کے بعد ارواح ناراض ہوگئیں.

مقامی لوگوں میں ایک اور خیال یہ پایا جاتا ہے کہ سکول کے نکاسی آب کے راستے سے قریب واقع مقامی دیوتا کے مندر کو نقصان پہنچا جبکہ بعض افراد نے سکول کے قریب کھیت میں مرنے والے ایک قبائلی نوجوان کی روح کو اس واقعے سے جوڑا ہے حکام نے صورتحال کی بنیادی وجوہات میں توہم پرستی، خوف، ذہنی دباﺅ اور مقامی اعتقاد کو قرار دیا ہے سکول کے سربراہ سنجے چوہدری کا کہنا ہے کہ متعدد ماہرین اور اعلی شخصیات نے طالبات سے بات کی ہے، طلبہ کی کونسلنگ جاری ہے اور چند طالبات واپس بھی آ چکی ہیں.

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سکول کی انتظامیہ کی دعوت پر چند ہفتوں میں نہ طرف ماہرین نفسیات بلکہ بھوت پریت کے ”ماہر “جوگیوں‘پجاریوں اور پنڈتوں نے بھی سکول اور ہاسٹلزکے دورے کیئے ہیں جس پر ذرائع ابلاغ نے سکول انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بچوں میں توہم پرستی پھیلانے کی مرتکب ہورہی ہے. 

متعلقہ عنوان :