پاکستان میں فضائی آلودگی کی بگڑتی صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوری، مربوط اور قابل پیمائش اقدامات ناگزیر ہیں، ڈاکٹر مصدق ملک

منگل 18 اگست 2026 18:54

پاکستان میں فضائی آلودگی کی بگڑتی صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوری، ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 18 اگست2026ء) وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں فضائی آلودگی کی بگڑتی صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوری، مربوط اور قابل پیمائش اقدامات ناگزیر ہیں، بصورت دیگر صحت عامہ، ماحول اور معاشی سرگرمیوں پر اس کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں، صاف ہوا محض ماحولیاتی ضرورت نہیں بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق،صحت اور باوقار زندگی کی لازمی شرط ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں پاکستان نیشنل کلین ایئر پالیسی کے نفاذ کے لیے ایکشن پلان کی تیاری کے سلسلے میں تین روزہ سٹیک ہولڈرز ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ورکشاپ کا انعقاد وزارت موسمیاتی تبدیلی وماحولیاتی ہم آہنگی، پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (پاک ای پی اے) اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے اشتراک سے کیا گیا جو 20 اگست تک جاری رہے گی۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو پالیسی وعدوں سے آگے بڑھتے ہوئے نیشنل کلین ایئر پالیسی کو واضح، وقت کے پابند اور قابل عمل ایکشن پلان میں تبدیل کرنا ہوگا۔ فضائی معیار کو ثانوی ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی بقا ءاور وقار کے بنیادی اشاریے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ فضائی آلودگی دنیا کےسنگین ترین ماحولیاتی اورصحت عامہ کے چیلنجز میں شامل ہو چکی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا کی 99 فیصد آبادی ایسے علاقوں میں رہتی ہے جہاں فضائی آلودگی کی سطح تجویز کردہ حدود سے تجاوز کر چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھی اس حوالے سے سنگین صورتحال کا سامنا ہےخصوصاً پنجاب اور دیگر علاقوں میں ہر سال موسم سرما کے دوران سموگ کا مسئلہ شدت اختیار کرتا ہے۔ ورلڈ بینک کے تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں PM2.5 کی اوسط نمائش تقریباً 52 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ہےجو عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ حد سے دس گنا سے بھی زیادہ ہےجبکہ وسطی لاہور میں سالانہ اوسط 110 سے 130 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک ریکارڈ کی گئی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ فضائی آلودگی پاکستان کے لیے کوئی تجریدی عالمی مسئلہ نہیں بلکہ لاکھوں شہری ہر سال اس کے اثرات کا سامنا کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے کئی دہائیوں پر محیط ماحولیاتی قانون سازی اور فضائی معیار سے متعلق اقدامات کے بعد 2023ء میں اپنی پہلی باقاعدہ نیشنل کلین ایئر پالیسی منظور کی۔ 2022ء میں ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے تیار کی گئی ملک کی پہلی نیشنل ایئر پولیوٹنٹ ایمیشن انوینٹری نے پالیسی کی تشکیل کے لیے اہم شواہد فراہم کیے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ موجودہ ورکشاپ کے ذریعے ملک میں فضائی معیار کے انتظام کے موجودہ نظام کاجائزہ، عملدرآمد میں موجود خلا کی نشاندہی، ترجیحی اقدامات کا تعین اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں، مالی وسائل اورسرمایہ کاری کے مواقع کو واضح کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک نےوزارت موسمیاتی تبدیلی کے تعاون سے نیشنل کلین ایئر پالیسی کا آزادانہ جائزہ بھی شروع کیا ہےجس کا مقصدگورننس نظام اور مختلف شعبوں میں کیے جانے والےاقدامات کا جائزہ لے کر زیادہ موثر، قابل پیمائش اور قانونی طور پر قابل نفاذ عملدرآمد فریم ورک کی تشکیل میں مدد فراہم کرنا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت فضائی آلودگی سےمتعلق اقدامات میں موثر رابطہ کاری اور عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے وزارت کے اندر نیشنل کلین ایئر سیکرٹریٹ کے قیام پر بھی غور کر رہی ہے۔کلین ایئر پالیسی پر مضبوط عملدرآمدی میکنزم ضروری ہے۔اس موقع پرڈائریکٹر جنرل پاک ای پی اے سید ابرار حسین نے کہا کہ پاکستان نےفضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے عمومی ماحولیاتی قوانین سے آگے بڑھتے ہوئے ایک Dedicated قومی کلین ایئر فریم ورک قائم کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے صوبوں، آزاد کشمیر،گلگت بلتستان، سرکاری اداروں، سول سوسائٹی، تعلیمی ماہرین اور نجی شعبے سےمشاورت کے بعد 9 مارچ 2023; کو نیشنل کلین ایئر پالیسی کی متفقہ طور پر منظوری دی تھی۔انہوں نے کہا کہ پالیسی کا ہدف 2030ء تک PM2.5 کے اخراج میں 38 فیصد جبکہ 2040ء تک 81 فیصد کمی لانا ہے۔ پالیسی میں ٹرانسپورٹ، صنعت، فضلہ، زراعت اور گھریلو شعبوں کو پانچ ترجیحی شعبوں کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔

ان اقدامات میں یورو فائیو اور یورو سکس ایندھن کے معیارات،صنعتی اخراج کے مقررہ معیار پر عملدرآمد، میونسپل اور زرعی فضلے کو کھلے عام جلانے کی روک تھام اور کم اخراج والی کھانا پکانے کی ٹیکنالوجیز کا فروغ شامل ہے۔سید ابرار حسین نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت فضائی آلودگی کی نگرانی، کنٹرول اور تدارک کے اختیارات بڑی حد تک صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں، اس لیے وفاق اورصوبوں کے درمیان مضبوط رابطہ کاری ضروری ہے۔

انہوں نے موجودہ کمیٹی پر مبنی نظام کا جائزہ لینے اور اس کی جگہ ایک مختصر، مضبوط اور سائنسی بنیادوں پر قائم عملدرآمدی سیکرٹریٹ کے قیام کی حمایت کی جبکہ باقاعدگی سے فضائی معیار کا ڈیٹا جمع کرنے، ایئر پولیوٹنٹ ایمیشن انوینٹری کو سالانہ بنیادوں پر اپ ڈیٹ کرنے، وسائل متحرک کرنے اور مسلسل عوامی آگاہی کی ضرورت پر زور دیا۔وزارت موسمیاتی تبدیلی کےمیڈیا ترجمان اور کلائمیٹ پالیسی ایڈووکیسی ایکسپرٹ محمد سلیم شیخ نے کہا کہ فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے مربوط پالیسی اقدامات کے ساتھ عوامی آگاہی اور موثرایڈووکیسی بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی کو صرف موسمی سموگ کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں، اس کے اثرات صحت عامہ، ماحول، معاشی پیداوار اورموسمیاتی لچک سمیت مختلف شعبوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔محمد سلیم شیخ نے کہا کہ لوگ ایسے مسئلے کے حل کی حمایت نہیں کر سکتے جس کی انہیں مکمل سمجھ نہ ہو، اس لیے صاف ہوا کو ایک ایسی عوامی بحث بنانا ہوگا جو سائنسی شواہد اور حکومتی پالیسی کو شہریوں کی روزمرہ زندگی سے جوڑ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی اداروں، صوبوں،محققین، ترقیاتی شراکت داروں، صنعت، سول سوسائٹی اور میڈیا کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا جبکہ فضائی معیار کے اعداد و شمار اور سائنسی شواہد کو ایسی معلومات میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جنہیں عام شہری سمجھ بھی سکیں اور ان کی بنیاد پر اقدامات بھی کر سکیں۔انہوں نے واضح کیا کہ عوامی آگاہی کو پالیسی پر عملدرآمد کا حصہ بنانا ہوگا، اسے بعد کی ترجیح نہیں بنایا جا سکتا۔

ورکشاپ کے نتیجے میں ایک قومی عملدرآمدی منصوبے کی تشکیل میں مدد ملے گی جس میں واضح اقدامات، ادارہ جاتی ذمہ داریاں، مالیاتی انتظامات اور مقررہ مدت شامل ہوں گے۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی نے تمام صوبوں سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں کلین ایئر پالیسی کے عملدرآمد اور رابطہ کاری کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔