ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے خلاف احتجاجی تحریک مزید تیز کرنے کی حکمت عملی تیار

مطالبات تسلیم نہ ہونے پر یوٹیلٹی بلز کی عدم ادائیگی ،سول نافرمانی سمیت تمام آپشنز پرغور وفاقی حکومت ملاکنڈ ڈویژن کے وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کا واضح اور حتمی نوٹیفکیشن جاری کرے، سوات چیمبر

جمعرات 20 اگست 2026 01:16

سوات (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 اگست2026ء) ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ کیخلاف جاری احتجاجی تحریک میں شدت لانے کیلئے حکمت عملی وضع کرلی گئی، سوات چیمبر کے ہنگامی اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات تک حتمی فیصلہ موخر کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ اگر وفاقی حکومت نے ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کی خواہشات اور مطالبات کے مطابق عملی اعلان نہ کیا تو یوٹیلٹی بلز کی عدم ادائیگی، سول نافرمانی اور احتجاج میں مزید شدت سمیت تمام آپشنز زیرِ غور لائے جائیں گے۔

اجلاس سوات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر نور محمد خان کی زیرصدارت منعقد ہوا، جس میں ملاکنڈ ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم، ترجمان ڈاکٹر خالد محمود، چیمبر کے سیکرٹری جنرل نوید جاوید اور ایگزیکٹو ممبران عدنان علی، حاجی محمد یوسف، علی محمد خان، محبوب ہارون،عبدالبصیر، بلال رحمان، ہارون الرشید، فرہاد علی خان، محمد انور، رحیم زادہ سمیت دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

اجلاس میں صوبائی ٹیکسز کے خاتمے کے فیصلے پر وزیراعلی خیبر پختونخواسہیل آفریدی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاگیا کہ ممبران صوبائی اسمبلی کے موثر مطالبے پر صوبائی کابینہ کی جانب سے ٹیکسز کے خاتمے کا نوٹیفکیشن جاری کرنا عوامی جدوجہد کی اہم کامیابی ہے۔ شرکا نے وفاقی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اسی طرز پر ملاکنڈ ڈویژن میں نافذ وفاقی ٹیکسز کے حوالے سے واضح اور حتمی نوٹیفکیشن جاری کرے۔

اجلاس میں بجلی اور سوئی گیس کے بھاری بلوں میں عائد مختلف ٹیکسز پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکا نے کہا کہ سوات سمیت ملاکنڈ ڈویژن کے کاروباری طبقے پہلے ہی شدید معاشی دبائو کا شکار ہیں اور بھاری یوٹیلٹی بلوں کے ساتھ اضافی ٹیکسوں نے کاروباری سرگرمیوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو ڈویژن میں رہی سہی کاروباری سرگرمیاں بھی دم توڑ سکتی ہیں۔

مقررین نے کہا کہ ملاکنڈ ٹریڈرز فیڈریشن اور سوات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہیں اور ٹیکسوں کے خاتمے تک مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام مطمئن رہیں، ان کے جائز حقوق کے حصول کے لیے آخری حد تک آئینی، قانونی اور جمہوری جدوجہد کی جائے گی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی قائدین سے بھی ملاقاتیں کی جائیں گی تاکہ انہیں ملاکنڈ ڈویژن کے عوام اور کاروباری طبقے میں پائی جانے والی شدید تشویش سے آگاہ کیا جائے۔

اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ منتخب نمائندے ایوانِ بالا اور پارلیمنٹ میں ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کا مقدمہ مثر انداز میں پیش کریں اور وفاقی حکومت پر ٹیکسوں کے خاتمے کے لیے دبا بڑھائیں۔شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف سے متوقع ملاقات کو فیصلہ کن مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اگر عوامی مطالبات پر واضح اور اطمینان بخش اعلان نہ ہوا تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دینے اور سخت ترین اقدامات پر غور کیا جائے گا۔