جیکب آباد میں دیرینہ دشمنی پر فائرنگ، 2 افراد قتل، لاشیں رکھ کر دھرنا

میرانپور تھانے کی حدود میں موٹر سائیکل سوار نوجوانوں پر حملہ، سندھ بلوچستان شاہراہ پر ٹریفک معطل، مذاکرات کے بعد احتجاج ختم

جمعہ 21 اگست 2026 14:30

جیکب آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 اگست2026ء) جیکب آباد میں دیرینہ دشمنی کے باعث مسلح افراد کی فائرنگ سے موٹر سائیکل سوار 2 نوجوان جاں بحق ہوگئے، واقعے کے خلاف مقتولین کے ورثا اور بلیدی برادری نے جیکب آباد بائی پاس پر لاشیں رکھ کر احتجاجی دھرنا دیا جس کے باعث سندھ بلوچستان کے درمیان ٹریفک معطل ہوگئی۔پولیس کے مطابق واقعہ میرانپور تھانے کی حدود میں پیش آیا جہاں بلوچستان جانے والے موٹر سائیکل سوار 2 نوجوانوں پر مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔

فائرنگ کے نتیجے میں امام جان بلیدی اور برکت علی بلیدی موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ ملزمان واردات کے بعد فرار ہوگئے۔واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور دونوں مقتولین کی لاشیں تعلقہ اسپتال گڑھی خیرو منتقل کیں، جہاں ضروری قانونی کارروائی کے بعد لاشیں ورثا کے حوالے کردی گئیں۔

(جاری ہے)

پولیس حکام نے کہا کہ رند اور بلیدی برادری کے درمیان رشتے کے تنازع پر دیرینہ دشمنی چلی آرہی ہے اور ابتدائی طور پر واقعے کو اسی دشمنی کا شاخسانہ قرار دیا جارہا ہے۔

مقتولین کے ورثا کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کردی گئی ہے۔دوسری جانب دونوں نوجوانوں کے قتل کے خلاف بلیدی برادری کے افراد نے جیکب آباد بائی پاس پر لاشیں رکھ کر احتجاجی دھرنا دیا اور ٹائر نذر آتش کیے۔ احتجاج کے باعث سندھ اور بلوچستان کے درمیان آمدورفت معطل ہوگئی اور دونوں جانب گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔

مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ ان کے نوجوانوں کو بے گناہ قتل کیا گیا ہے جبکہ پولیس قاتلوں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قتل میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے۔اس موقع پر ڈی ایس پی صدر تنویر شاہ نے مظاہرین سے مذاکرات کیے اور یقین دہانی کرائی کہ قتل میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا، جس کے بعد مظاہرین نے دھرنا ختم کردیا اور ٹریفک بحال ہوگئی۔