پنجاب کے 8.9 فیصد اور خیبرپختونخوا کے تقریباً 8 فیصد کمانڈ ایریا میں زیر زمین پانی کی سطح گرنے کا انکشاف

پیر 24 اگست 2026 19:53

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 اگست2026ء) وزارت آبی وسائل نے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا ہے کہ پنجاب اریگیشن ڈیپارٹمنٹ کی مانیٹرنگ کے مطابق صوبے کے کل کمانڈ ایریا کے 8.9 فیصد رقبے میں زیر زمین پانی کی سطح 60 فٹ یا اس سے زیادہ گہری ہو چکی ہے۔ایم این اے شہلا رضا کے سوال پر وزارت کی جانب سے تحریری طور پر بتایا گیا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد زیر زمین پانی کا انتظام اور نگرانی صوبوں کا منتقل شدہ شعبہ ہے۔

(جاری ہے)

پنجاب میں لاہور، اوکاڑہ، ساہیوال، خانیوال، وہاڑی، لودھراں اور ملتان کے اضلاع میں زیر زمین پانی کی سطح میں کمی کا رجحان پایا گیا ہے جہاں اوسطاً 0.63 فٹ سالانہ کمی مشاہدے میں آئی ہے۔ خیبرپختونخوا کے 7.98 فیصد کمانڈ ایریا (پشاور، بنوں، ڈی آئی خان، مالاکنڈ) میں 0.59 فٹ سالانہ کی شرح سے کمی دیکھی گئی ہے جبکہ سندھ کو پانی کی کمی کے بجائے سیم و تھور کا مسئلہ درپیش ہے۔وزارت نے واضح کیا کہ قومی آبی پالیسی 2018 کے تحت تمام صوبوں میں گرائونڈ واٹر اتھارٹیز اور ضابطہ جاتی فریم ورک قائم کیے جا رہے ہیں جس کے تحت پنجاب واٹر ایکٹ 2019 اور کے پی واٹر ایکٹ 2020 نافذ ہو چکے ہیں جبکہ سندھ میں قانون سازی کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے۔