Live Updates

جانیے اقوام متحدہ اے آئی کے ذریعے کیسے انسانی حقوق پروان چڑھا رہی ہے؟

یو این پیر 24 اگست 2026 21:45

جانیے اقوام متحدہ اے آئی کے ذریعے کیسے انسانی حقوق پروان چڑھا رہی ہے؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 24 اگست 2026ء) جمیکا میں چھ سالہ طالب علم آری کو سیکھنے میں مشکلات کا سامنا تھا لیکن اب مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے اس کے لیے اپنے مخصوص انداز میں پڑھ کر سمجھنا آسان بنا دیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت ایتھوپیا میں سونے کی کان کنی کرنے والے مزدوروں میں تپ دق کی تیزی سے تشخیص ممکن ہو گئی ہے جبکہ دنیا بھر میں میتھین گیس کے اخراج کی نشاندہی سے لوگوں کو صاف ہوا میں سانس لینے کا موقع ملا ہے۔

اقوام متحدہ کے مختلف ادارے امن، سلامتی اور انسانی حقوق کو فروغ دینے کے لیے مصنوعی ذہانت کے آلات سے کام لے رہے ہیں جبکہ ادارہ عالمی سطح پر اس ٹیکنالوجی کے بہتر انتظام سے متعلق جاری بحث کی قیادت بھی کر رہا ہے۔

جمیکا میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے درسی کتابوں کو ایسے متعامل مواد میں تبدیل کیا جا رہا ہے جو ایسے بچوں کی مخصوص ضروریات کے مطابق تیار کیا جاتا ہے جنہیں سیکھنے میں مشکلات پیش آتی ہیں اور آری بھی اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔

(جاری ہے)

خواندگی میں مددگار ٹیکنالوجی

عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) میں تعلیم اور نوعمر افراد کی ترقی سے متعلق شعبے کی ڈائریکٹر پیا ریبیلو بریتو نے یو این نیوز کو بتایا کہ آری جیسے بے شمار بچے اس بات کی مثال ہیں کہ جب ڈیجیٹل تعلیم تک ہر بچے کو رسائی دی جائے تو کیا کچھ ممکن ہے۔

یونیسف کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کا مطلب یہ ہے کہ ادارہ جن لوگوں کی مدد کرتا ہے، انہیں ٹیکنالوجی کی تیاری کے عمل کا مرکز بنایا جائے۔

ادارے نے وکالتی گروہوں کے ساتھ مل کر سب کے لیے قابل رسائی ڈیجیٹل درسی کتب کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس کا اے آئی سے معاونت یافتہ ورژن 17 ممالک میں کام کر رہا ہے اور اسے سیکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنے والے 20 لاکھ بچوں تک رسائی ہے۔ 2030 تک اسے 50 ممالک تک توسیع دی جائے گی جبکہ رواں سال اب تک چھ ممالک اس پروگرام میں شامل ہو چکے ہیں۔

میتھین کے اخراج کی روک تھام

میتھین ان گیسوں میں شامل ہے جو عالمی حدت میں بڑے پیمانے پر اضافے کا باعث بنتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام(یونیپ) میں شعبہ موسمیاتی تبدیلی کے ڈائریکٹر مارٹن کروز نے کہا ہے کہ اس مسئلے کے بارے میں فکر مند ہونے والے ہر شخص کو عالمی حدت میں کمی لانے میں دلچسپی ہونی چاہیے اور میتھین کے اخراج کو روکنا اس حوالے سے ہنگامی بریک کی حیثیت رکھتا ہے۔

یونیپ سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی معلومات کے ذریعے میتھین کے بڑے اخراج کا سراغ لگاتا اور حکومتوں اور کمپنیوں کو اس سے آگاہ کرتا ہے۔

اس اقدام کے ذریعے 2024 سے اب تک پٹرول یا گیس سے چلنے والی دو کروڑ 40 لاکھ گاڑیوں سے خارج ہونے والی کاربن کے برابر میتھین کا اخراج روکنے میں مدد ملی ہے۔

مارٹن کروز کے مطابق، میتھین کے اخراج کی نشاندہی میں مصنوعی ذہانت انسانوں کے مقابلے میں 12 سے 15 گنا زیادہ تیز اور درست ہے۔ گزشتہ دو برس کے دوران یونیپ نے اس اخراج کے حوالے سے 7,500 انتباہ جاری کیے جن کے نتیجے میں میتھین کو روکنے کے لیے 42 اقدامات کیے گئے۔

تپ دق کی نشاندہی

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی معاونت سے ترقی پذیر ممالک تپ دق (ٹی بی) کی نشاندہی کے لیے سینے کے ایکسرے کا مصنوعی ذہانت کے ذریعے تجزیہ کر رہے ہیں۔ اس سے ایسے علاقوں میں تیزی سے بیماری کی جانچ ممکن ہو رہی ہے جہاں ماہرین کی تعداد کم ہوتی ہے۔

ادارے میں گرم خطوں کی بیماریوں پر تحقیق کے شعبے سے وابستہ ڈاکٹر وینیسا ویرونیز نے یو این نیوز کو بتایا کہ اس ٹیکنالوجی سے لوگوں کو تشخیص کے مختلف مراحل سے گزر کر علاج تک فوری رسائی میں مدد مل رہی ہے۔

بیماری کی جلد تشخیص کا مطلب یہ بھی ہے کہ اس طرح متاثرہ افراد سے دوسروں تک انفیکشن منتقل ہونے کی شرح میں کمی آئے گی۔

ڈاکٹر ویرونیز نے ایتھوپیا کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں سونے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدروں کو گردوغبار اور سیلیکا کے ذرات سے تپ دق لاحق ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ تاہم یہ ٹیکنالوجی ان لوگوں میں تپ دق کے امکانات کی مکمل نشاندہی کر دیتی ہے جس سے ممکنہ مریضوں کو بیماری سے بچانا آسان ہو جاتا ہے۔

'ڈبلیو ایچ او' نے 2021 میں بالغ افراد میں تپ دق کی تشخیص کے لیے اس ٹیکنالوجی کے استعمال کی باضابطہ سفارش کی تھی جس کے بعد ترقی پذیر ممالک کو اسے اپنانے میں مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت میں بہتری

اقوام متحدہ کے ادارے مصنوعی ذہانت کو بارودی سرنگوں کی نشاندہی، قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے، مشتبہ مالی لین دین کی نشاندہی، تابکار آلودگی کی نگرانی اور جوہری انشقاق پر تحقیق کو تیز کرنے کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔

ٹیکنالوجی میں پیش رفت کے ساتھ اقوام متحدہ مساوات، انسانی حقوق اور اخلاقیات پر بھی زور دے رہا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت امن و جمہوریت کے لیے خطرہ بننے کے بجائے ترقی کے فروغ کا ذریعہ بنے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش مصنوعی ذہانت کو 21 ویں صدی میں انسانیت کے لیے بیک وقت ترقی بہت بڑا موقع اور خطرہ قرار دے چکے ہیں۔ انہوں نے اس ٹیکنالوجی کی جامع اور مشمولہ نگرانی پر زور دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو انسانیت کا خدمتگار ہونا چاہیے نہ کہ انسانیت مصنوعی ذہانت کی خدمت کرے۔

Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات