Live Updates

صومالیہ: امدادی کٹوتیوں سے 10لاکھ بچوں کو غذائی قلت کا سامنا

یو این پیر 24 اگست 2026 21:45

صومالیہ: امدادی کٹوتیوں سے 10لاکھ بچوں کو غذائی قلت کا سامنا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 24 اگست 2026ء) امدادی مقاصد کے لیے درکار مالی وسائل کی بڑھتی ہوئی قلت صومالیہ میں لاکھوں کمزور بچوں کو بری طرح متاثر کر رہی ہے جہاں امداد کے متعدد پروگرام اور مراکز بند ہونے سے 10 لاکھ بچوں کو شدید غذائی قلت کا خطرہ لاحق ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کے ترجمان جیمز ایلڈر نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ انسانی امداد میں غیر معمولی کمی کے باعث صومالیہ میں صحت و غذائیت کے 200 سے زیادہ مراکز پہلے ہی بند ہوچکے ہیں جبکہ یہ تعداد بڑھ کر 618 تک پہنچنے کا خطرہ ہے۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں شدید غذائی قلت اور اس سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث غذائی بحالی کے مراکز میں داخل کیے جانے والے بچوں کی تعداد میں 32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں ںے خبردار کیا کہ ایسے مراکز میں کمی کا مطلب یہ ہے کہ ماؤں اور ان کے بچوں کو زیادہ طویل سفر کرنا پڑتا ہے جس کا نتیجہ علاج میں تاخیر، بیماری کے شدت اختیار کرنے اور ایسی اموات کی صورت میں نکلتا ہے جنہیں روکا جا سکتا تھا۔

خشک سالی اور سیلاب کا خطرہ

صومالیہ میں کئی دہائیوں سے جاری خانہ جنگی کے باعث بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے اور لاکھوں افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ اندازے کے مطابق، رواں سال تقریباً 19 لاکھ بچے غذائی قلت سے متاثر ہوں گے جن میں پانچ لاکھ شدید اور جان لیوا غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔

امریکا۔ایران جنگ نے بھی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے کہ اس کے نتیجے میں ایندھن اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ بگڑتے موسمیاتی بحران کے باعث خوراک کی فراہمی میں خلل آنے کا اندیشہ ہے۔

ملک کے شمالی علاقوں میں شدید خشک سالی ہے اور موسمی کیفیت ایل نینو کے پہلے سے زیادہ طاقتور رجحان نے شدید سیلاب کا خطرہ بھی بڑھادیا ہے۔

امدادی وسائل کی ضرورت

اقوام متحدہ صومالیہ میں ایک فعال شراکت دار کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ادارے نے 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو ہیضے سے بچاؤ کی ویکسین فراہم کی ہے، ایک لاکھ سے زیادہ طلبہ کے لیے تعلیمی پروگراموں میں معاونت کی ہے اور مسلح گروہوں میں بھرتی کیے گئے بچوں کی بحالی میں بھی مدد دی ہے۔

جیمز ایلڈر نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے پاس امدادی پروگرام اور شراکت دار موجود ہیں تاہم امدادی وسائل کی قلت ہے۔ ادارے نے2021 سے 2025 کے دوران 22 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ بچوں کو شدید غذائی قلت کے علاج میں مدد فراہم کی۔ گزشتہ سال ہی اس پروگرام کے تحت صحت یابی کی شرح 97.6 فیصد رہی۔ تاہم موجودہ مالی مشکلات کے باعث خدشہ ہے کہ ادارہ آئندہ یہ نتائج برقرار نہ رکھ پائے گا۔

انہوں نے کہا ہے کہ بچوں کا تحفظ ایک لازمی فریضہ ہے۔ مصائب کو روکنا غیر موثر سرمایہ کاری نہیں ہوتی اور ضرورت کے وقت امدادی نظام کو ختم کرنا کوئی بچت نہیں بلکہ بعد میں مالی وسائل، سلامتی کو لاحق خطرات، ترقی کے ضیاع اور بہت سے بچوں کی زندگی کی صورت میں اس کی کہیں بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات