حکومت کی حماقتیں جاری ہیں، بہتر ہے مزید حماقتیں مت کریں

اپوزیشن نے ریاستی اداروں سے ٹکرانے کی بجائے (ن)لیگ سے ٹکرانے کی پالیسی پرعمل کیا تو حکومت کی مزید حماقتیں کسی نہ کسی کواڈیالہ پہنچا دینگی، صحافی حامد میر

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ پیر 24 اگست 2026 20:06

حکومت کی حماقتیں جاری ہیں، بہتر ہے مزید حماقتیں مت کریں
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 24 اگست 2026ء) سینئر صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ حکومت کی حماقتیں جاری ہیں، بہتر ہے مزید حماقتیں مت کریں ۔ ایکس پر اپنے ٹویٹ میں اپنا روزجنگ کا کالم شیئر کیا جس کے مطابق حکومت کی حماقتیں جاری ہیں اپوزیشن نے ریاستی اداروں سے ٹکرانے کی بجائے صرف مسلم لیگ (ن) سے ٹکرانے کی پالیسی پر جمہوری و آئینی طریقے سےعمل کیا تو حکومت کی ’’مزید حماقتیں‘‘کسی نہ کسی کواڈیالہ کے “زندان حماقت‘‘ میں پہنچا دینگی۔

بہتر ہے ’’مزید حماقتیں‘‘ مت کریں۔ مسلم لیگ (ن) کی حماقتیں اورپھر مزید حماقتیں مولانا فضل الرحمان کے بعد بلاول کو بھی تحریکِ انصاف کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ پنجاب حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت تین ماہ کیلئے راولپنڈی میں فوج تعینات کر دی ہے۔

(جاری ہے)

اس فیصلے کے بعد سمجھ آتی ہے کہ اپوزیشن کا ریاستی اداروں سے محاذآرائی نہ کرنے کا فیصلہ کتنا اہم ہے۔

اگلے دس پندرہ دن میں عمران خان کو جیل سے اسپتال نہ لایا گیا تو شہباز شریف کی حکومت کیلئے پریشانیاں بڑھ جائیں گی۔
مسلم لیگ ن کو چاہئے کہ اپوزیشن کا مقابلہ سیاسی انداز میں کرے اور اداروں کو سیاست میں نہ گھسیٹے۔ اگر اپوزیشن نے ریاستی اداروں سے ٹکرانے کی بجائے صرف مسلم لیگ (ن) سے ٹکرانے کی پالیسی پر جمہوری اور آئینی طریقے سے عمل کیا تو اس حکومت کی ’’مزید حماقتیں‘‘جاری رہیں گی اور کسی نہ کسی کے زوال کا باعث بن کر اسے پھر سے ’’زندان حماقت‘‘ میں پہنچا دیںگی۔ بہتر ہے ’’مزید حماقتیں‘‘ مت کریں۔