Live Updates

مختلف ممالک سے ڈی پورٹ ہونے والے متعدد افراد کو اسلام آباد ایئرپورٹ پر گرفتار کرلیا گیا

ترکیہ، یورپ ، اٹلی، کویت اور سعودی عرب سے ڈی پورٹ افراد پر غیرقانونی داخلے کی کوشش اور اوور اسٹے کا الزام ہے

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ پیر 24 اگست 2026 21:15

مختلف ممالک سے ڈی پورٹ ہونے والے متعدد افراد کو اسلام آباد ایئرپورٹ ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔24 اگست 2026ء ) مختلف ممالک سے ڈی پورٹ ہونے والے متعدد افراد کو اسلام آباد ایئرپورٹ پر گرفتار کرلیا گیا، ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد نے مقدمہ درج کرلیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ترکیہ، یورپ ، اٹلی، کویت اور سعودی عرب سے ڈی پورٹ افراد کو اسلام آباد ایئرپورٹ پر گرفتار کرلیا گیا۔

ان افراد پر غیرقانونی داخلے کی کوشش اور اوور اسٹے کا الزام ہے جس کے تحت ان 10 افراد کیخلاف مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ ترکیہ سے ڈی پورٹ ہونے والے 6 افراد پر یورپ جانے کی غیرقانونی کوشش کا الزام ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزمان کے پاسپورٹ، سفری دستاویز اور موبائل فونز قبضے میں لے لیے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

دوسری جانب خلیجی ممالک سے رواں سال کے ابتدائی ساڑھے چار ماہ کے دوران 21 ہزار 951 پاکستانی شہریوں کو مختلف وجوہات کی بنا پر ڈی پورٹ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، قومی اسمبلی میں پاکستانی شہریوں کی ملک بدری کی وجوہات اور متعلقہ خلیجی ممالک کی تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں، یہ تفصیلات رکن قومی اسمبلی حمید حسین کی جانب سے قومی اسمبلی کے سوالات کے دوران معاملہ اٹھائے جانے پر تحریری جواب میں سامنے آئیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یکم مارچ سے 13 جولائی 2026ء کے دوران بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے مجموعی طور پر 21 ہزار 951 پاکستانی شہریوں کو واپس بھیجا گیا، سب سے زیادہ 15 ہزار 495 پاکستانی شہری سعودی عرب سے ڈی پورٹ ہوئے، متحدہ عرب امارات سے 3 ہزار 803، عمان سے ایک ہزار 606، بحرین سے 521، قطر سے 429 اور کویت سے 97 پاکستانی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا۔

قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے جواب سے معلوم ہوا ہے کہ 6 ہزار 662 پاکستانی شہریوں کو دیگر وجوہات کے زمرے میں ڈی پورٹ کیا گیا، تاہم وزارت کی جانب سے اس کیٹیگری میں شامل مخصوص وجوہات کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی، اس کے علاوہ 4 ہزار 628 پاکستانی شہریوں کو مفرور قرار دیئے جانے کے بعد ڈی پورٹ کیا گیا، جن میں سعودی عرب سے 3 ہزار 921 اور متحدہ عرب امارات سے 636 شہری شامل ہیں۔

اعداد و شمار سے پتہ چلا ہے کہ 2 ہزار 811 پاکستانی شہریوں کو غیر قانونی داخلے یا قیام کی بنیاد پر واپس بھیجا گیا، ایک ہزار 294 افراد جیل جانے کے بعد ڈی پورٹ ہوئے، اسی طرح ایک ہزار 155 پاکستانی شہریوں کے ڈی پورٹیشن کیسز گمشدہ پاسپورٹس سے متعلق تھے، 968 افراد کو بلیک لسٹ کیے جانے کے بعد ملک بدر کیا گیا، منشیات سے متعلق مقدمات یا الزامات کے تحت بھی 728 پاکستانی شہریوں کو خلیجی ممالک سے ڈی پورٹ کیا گیا، جن میں سعودی عرب سے 450 اور متحدہ عرب امارات سے 190 افراد شامل ہیں۔

بتایا جارہا ہے کہ ویزہ خلاف ورزیوں کے باعث 689 پاکستانی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا، 472 افراد کو گداگری کے زمرے میں ڈی پورٹ کیا گیا، 343 پاکستانی شہریوں کے ویزے زائد المیعاد ہونے، 342 کے داخلے سے انکار، 255 کے بیرون ملک پیدائش اور 145 کے امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے باعث ڈی پورٹیشن ہوئی، چوری کے الزامات میں 125، ویزہ منسوخ ہونے پر 93، زائد المیعاد اقامہ رکھنے پر 44 اور زائد المیعاد پاسپورٹ کے باعث 40 پاکستانی شہریوں کو واپس بھیجا گیا۔

مزید یہ کہ جعلی دستاویزات کے معاملے میں 16 پاکستانی شہریوں کو ڈی پورٹ کیا گیا، 9 پاکستانی شہریوں کو انٹرپول کے ذریعے متحدہ عرب امارات سے واپس بھیجا گیا، سعودی عرب نے 3 ہزار 921 مفرور پاکستانی شہریوں کو ڈی پورٹ کیا، ویزہ سے متعلق خلاف ورزیوں پر بھی سعودی عرب سے ایک ہزار 924 پاکستانی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا، مجموعی طور پر خلیجی ممالک سے پاکستانی شہریوں کی ملک بدری میں سب سے بڑا حصہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا ہے، ڈی پورٹیشن کی وجوہات میں مفروری، غیر قانونی قیام، ویزہ خلاف ورزی، جیل، گمشدہ پاسپورٹ اور دیگر معاملات شامل ہیں۔
Live سعودی عرب سے متعلق تازہ ترین معلومات