جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم میں شدت، 8کشمیری گرفتار، گرفتاریوں ، جائیدادوں کی ضبطی سے مقبوضہ کشمیر کی سنگین زمینی صورتحال عیاں

منگل 25 اگست 2026 18:37

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 25 اگست2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے گرفتاریوں، چھاپوں، تلاشیوں اور نگرانی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے جبکہ کشمیری خاندانوں کو کالے قوانین کے تحت جابرانہ اقدامات کا سامنا ہے،جس سے صورتحال معمول پرآنے کے بھارتی دعوے بے نقاب ہو گئے ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فورسز نے شوپیاں اور پلوامہ اضلاع میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران 8کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیاہے۔

ضلع بارہمولہ کے مختلف علاقوں میں بھی تلاشی کی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ معمول کی کارروائیوں کے لیے بھارتی فوج اور پیراملٹری اہلکاروں کے مسلسل استعمال نے علاقے میں انسانی حقوق کی صورتحال کے حوالے سے تشویش مزید بڑھا دی ہے۔

(جاری ہے)

نئی دہلی کے زیر کنٹرول ریاستی تحقیقاتی ادارے ایس آئی اے نے بانڈی پورہ میں دو کارکنوں کے گھروں پرنوٹس چسپاں کیے ہیں۔

ان اقدامات سے کشمیریوں کی سیاسی سرگرمیوں اور آزادانہ نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کی عکاسی ہوتی ہے ۔بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے سرینگر میں ایک کشمیری خاتون کے مکان کو ضبط کرنے کی کوشش کی ہے، حالانکہ جائیداد اس کے نام پر رجسٹرڈ ہے اوروہ کسی مقدمے میں نامزد ملزم نہیں ہے ۔ادھرکل جماعتی حریت کانفرنس کے 74سالہ سینئر رہنما شبیر احمد شاہ کو ہتھکڑیاں لگا کر جموں کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا۔

انہیں این آئی اے نے اپریل میں 1996کے ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا تھا۔ جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور سے منسوب متنازعہ بیان کے بعد مسئلہ کشمیر کے حوالے سے واشنگٹن کی پالیسی واضح کریں۔جامع مسجد سرینگر کمیٹی نے آج تاریخی جامع مسجد کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اعادہ کیا، جسے بھارتی قابض حکام بارہا محاصرے میں لے کر بند کرتے رہے ہیں اور اس کے منبر کی آواز کو خاموش کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔

1989میں آج ہی کے روز آپریشن جامع مسجد کے دوران تاریخی مسجد کی تقدس کو پامال، نمازیوں کو گرفتار کیا گیا اور مسجد کے مقدس احاطے کی بے حرمتی کی گئی۔سوپور میں تحصیلدار کی جانب سے مبینہ بدسلوکی اور دھمکیوں کے خلاف وکلا کی ہڑتال مسلسل ساتویں روز بھی جاری رہی۔ قبائلی گوجر بکروال برادری نے ضلع کشتواڑ میں ایک کم عمر گوجر بچی کی بار بار عصمت دری اور بعد ازاں موت کے واقعے پر فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ رینگر میں ریٹائرڈ پولیس افسر دارا سنگھ اور ان کے حامیوں کی بی جے پی میں شمولیت نے ریاستی اداروں کے سیاسی استعمال اور ریٹائرڈ بھارتی پولیس اہلکاروں اور ہندوتوا سیاسی نظام کے درمیان بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ کے حوالے سے خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔