نیپال: ہلاکتوں کی تعداد تقریباﹰ پانچ سو تک پہنچ گئی، نئے سیلاب کا خطرہ برقرار

DW ڈی ڈبلیو جمعہ 28 اگست 2026 12:00

نیپال: ہلاکتوں کی تعداد تقریباﹰ پانچ سو تک پہنچ گئی، نئے سیلاب کا خطرہ ..
  • تہران کا آبنائے ہرمز کھولنے کی جانب پہلا قدم
  • نیپال: ہلاکتوں کی تعداد تقریباﹰ پانچ سو تک پہنچ گئی، نئے سیلاب کا خطرہ برقرار

نیپال: ہلاکتوں کی تعداد تقریباﹰ پانچ سو تک پہنچ گئی، نئے سیلاب کا خطرہ برقرار

کٹھمنڈو میں نیپالی حکام نے بتایا کہ بدھ کے روز لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے نتیجے میں جمعہ کی صبح تصدیق شدہ ہلاکتوں کی تعداد 469 تک پہنچ گئی، جبکہ نیپال اور پڑوسی تبت میں تقریباً 1000 افراد لاپتا ہیں۔

لاپتا افراد میں کم از کم 540 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔

لینڈ سلائیڈنگ کے بعد گیرونگ کے قریب، جو نیپال اور تبت کے درمیان زمینی سرحدی گزرگاہ ہے، ایک جھیل بن گئی ہے۔ اس میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، جس کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایک اور تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے۔

(جاری ہے)

نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کے ملبے سے بھوٹے کوشی دریا کا بہاؤ رکنے کے نتیجے میں بننے والی جھیل میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔

حکام کے مطابق جھیل کے پشتے ٹوٹنے کی صورت میں ایک اور تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے، جس سے نشیبی علاقوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

دوسری جانب چین نے بتایا ہے کہ آئندہ تین روز کے دوران تقریباً 30 لاکھ مکعب میٹر پانی جھیل میں داخل ہونے کی توقع ہے۔ یہ مقدار اولمپک سائز کے تقریباً 1200 سوئمنگ پولز کے برابر بنتی ہے۔

چینی سرکاری میڈیا نے وزارت آبی وسائل کے حوالے سے بتایا کہ اس جھیل کے کنارے ٹوٹنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے، جبکہ پانی کا بہاؤ تقریباً یکم ستمبر کو اپنے عروج پر پہنچنے کی خطرہ ہے۔

چینی حکام نے اس جھیل اور اس کے گرد موجود رکاوٹ کا فضائی جائزہ لینے اور تھری ڈی ماڈلنگ کے لیے آٹھ رکنی انجینئرنگ ٹیم تعینات کی ہے، تاہم دشوار گزار علاقے تک رسائی ایک بڑا چیلنج ہے۔

سرچ اور ریسکیو کی کارروائیاں جاری

نیپال میں امدادی ٹیمیں متاثرہ قصبوں میں بھاری مشینری کے ذریعے کیچڑ اور ملبہ ہٹا کر لاپتا افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کی امید کم ہوتی جا رہی ہے۔ دوسری طرف حکام مزید تباہ کن سیلاب کے خطرے کو کم کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔

نیپالی حکام کے مطابق ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ قصبوں اور وادیوں میں پھنسے ہزاروں افراد تک ہنگامی سامان پہنچایا جا رہا ہے اور زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کا عمل جاری ہے۔

امدادی کارکنوں، جن میں بعض تربیت یافتہ سونگھنے والے کتوں کے ساتھ کام کرنے والی ٹیمیں بھی شامل ہیں، نے درجنوں لاشیں برآمد کی ہیں، جو سیلابی ریلوں کے ساتھ میدانی علاقوں تک بہہ گئی تھیں۔

یہ قدرتی آفت وزیر اعظم بالندر شاہ کی صرف پانچ ماہ پرانی حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان بن گئی ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ نیپال میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ اہلکار اور ہنگامی ردعمل کا تجربہ رکھنے والا نظام موجود ہے۔

انہوں نے 2015 کے تباہ کن زلزلے کا حوالہ دیا، جس میں تقریباً 9 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ٹرمپ کی جانب سے مدد کی پیشکش

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیپال میں تباہی کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دیکھا،’’مضبوط اور اچھی طرح تعمیر کی گئی عمارتیں بھی ایسے تباہ ہو گئیں، جیسے وہ ماچس کی تیلیاں ہوں۔

‘‘

اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ امریکہ نے نیپالی قیادت سے رابطہ کیا ہے اور ’’انہیں جس چیز کی بھی ضرورت ہو، فراہم کرنے‘‘ کی پیشکش کی ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر کا تجزیہ کرنے والے سائنس دانوں کے مطابق یہ تباہ کن سیلاب ہمالیہ کے بلند علاقے میں اُس وقت آیا، جب ایک گلیشیئر کے نیچے موجود ایک چٹانی تہہ (بیڈرَوک) ٹوٹ گئی۔

اس کے نتیجے میں گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ منہدم ہو گیا اور بھاری مقدار میں ملبہ نیچے آ کر سیلاب کا باعث بنا۔

چٹانوں، پگھلے ہوئے برفانی پانی اور ملبے کے بڑے حجم نے نیچے کی وادیوں میں دریاؤں کے بہاؤ میں اچانک اور غیر معمولی اضافہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ایک انتہائی طاقتور سیلابی ریلا وجود میں آیا۔ اس ریلے نے اپنے راستے میں آنے والی عمارتوں، پلوں اور زمین کے وسیع حصوں کو بہا کر شدید تباہی مچائی۔

ادارت: عاطف بلوچ

متعلقہ عنوان :